یہ کہانی الماس کی ہے، جو یونیورسٹی کی ایک آزاد خیال، خود سر اور حسن پرست طالبہ ہے۔ الماس غریب مگر خوبصورت ہے اور ایک امیر شہزادے کے خواب دیکھتی ہے۔ اس کا کلاس فیلو وقار بیگ اس سے سچی محبت کرتا ہے اور باعزت طریقے سے اپنی والدہ اور بہن کے ذریعے رشتے کا پیغام بھیجتا ہے، لیکن الماس اس کے متوسط طبقے اور سادگی کا شدید مذاق اڑاتی ہے اور اسے بار بار ذلیل کر کے ٹھکرا دیتی ہے۔ یونیورسٹی میں تعبیر نامی ایک امیر اور عیاش طبع نووارد لڑکے کی آمد ہوتی ہے۔ الماس اس کے دبدبے اور دولت سے متاثر ہو کر اس کے قریب ہو جاتی ہے۔ اسی دوران الماس کی خالہ اور واحد سہارا دل کے دورے سے انتقال کر جاتی ہیں۔ خالہ کی وفات کے بعد الماس پر خالو کا ۳۰ لاکھ روپے کا قرضہ ظاہر ہوتا ہے، اور قرض خواہ گھر بیچنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ مالی پریشانیوں اور قرض کی ادائیگی کے لیے الماس، تعبیر کے مشورے پر شو بزنس میں قدم رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ تعبیر اور اس کا ڈائریکٹر دوست سکندر، جو دراصل عیاش اور شاطر طبع انسان ہیں، الماس کے حسن اور مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ پچاس لاکھ روپے اور فلیٹ کے عوض اسے سمجھوتے پر آمادہ کر لیتے ہیں۔ الماس شوٹنگ کے لیے لاہور منتقل ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.