یہ کہانی ایک نوجوان "حیدر" کے گرد گھومتی ہے جو اپنے باپ کی وفات کے بعد نواب عالم کی فیکٹری میں بطور چوکیدار ملازمت شروع کرتا ہے۔ نواب عالم ایک عیاش اور مغرور شخص ہے، جبکہ حیدر ایک غریب لیکن خوددار انسان ہے۔ ڈیوٹی کے دوران حیدر کو اکثر پازیبوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور اس کا سامنا ایک پراسرار لڑکی "ماریہ" سے ہوتا ہے، جس کی خوبصورتی اور باتیں حیدر کو سحر زدہ کر دیتی ہیں۔کہانی میں سنسنی خیز موڑ تب آتا ہے جب حیدر کو ماریہ کی سہیلی فاخرہ بتاتی ہے کہ نواب عالم ماریہ کی عزت لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حیدر غصے میں آکر نواب عالم کو قتل کر دیتا ہے، لیکن حقیقت کھلنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ماریہ کوئی زندہ انسان نہیں بلکہ "خوشبو" نامی ایک خانہ بدوش لڑکی کی روح تھی۔ خوشبو نے بتایا کہ نواب عالم نے ماضی میں اسے دھوکے سے بلا کر قتل کیا تھا اور جب حیدر کے باپ نے اس گناہ میں ساتھ دینے سے انکار کیا، تو نواب نے انہیں بھی مروا دیا تھا۔ خوشبو کی روح نے حیدر کو سچائی دکھا کر اپنے اور حیدر کے باپ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ماریہ کا روپ دھارا تھا۔ آخر میں وہ روح حیدر کو دعائیں دیتے ہوئے غائب ہو جاتی ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.