یہ کہانی ایک مشترکہ خاندانی نظام اور اس میں پرورش پانے والے رشتوں کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کا مرکز "قصرِ راحت" ہے جہاں راحت بیگم (دادی جان) اپنے بیٹوں ریحان اور فیضان کے خاندانوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ خاندان میں خوشی کا موقع تب آتا ہے جب بڑی پوتی افریشم کا نکاح عید پر طے ہوتا ہے۔ گھر میں جہاں محبت کرنے والے جازب، درِریشم اور حنا جیسے کردار ہیں، وہیں نصرت چچی کا حاسدانہ اور تلخ رویہ گھر کی فضا کو بوجھل رکھتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی ثناء کو دوسروں سے برتر سمجھتی ہیں اور جازب کے سانولے رنگ کی وجہ سے اسے ناپسند کرتی ہیں۔کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب لندن سے پھوپھو کا بیٹا عمر پاکستان آتا ہے اور اس کی نسبت درِریشم سے طے پاتی ہے۔ نصرت چچی اس پر ہنگامہ کھڑا کرتی ہیں، لیکن عابدہ (تائی جان) کی فراخ دلی اور دادی جان کی فہم و فراست سے نہ صرف حنا اور جازب کا رشتہ طے پا جاتا ہے بلکہ ثناء کے لیے بھی بہتر مستقبل کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ یہ ناول رنگ و نسل کے تعصب کو ختم کرنے اور خاندانی اتحاد کی اہمیت کو خوبصورت انداز میں اجاگر کرتا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.