تاریخی پس منظر: یہ ناول 15ھ کے دور کی عکاسی کرتا ہے جب فاران کی چوٹیوں سے اسلام کا آفتاب طلوع ہو چکا تھا اور اسلامی لشکر شام و روم کی سرحدوں پر خیمہ زن تھا۔ عیسائی لشکر اور حبشی جنگجو: عیسائیوں نے مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے نو بہ، بربر اور بجاہ کے بادشاہوں کے ساتھ مل کر عظیم الشان لشکر (3 لاکھ) تیار کیا۔ اس لشکر میں ایک ہزار تین سو جنگی ہاتھی اور 20 ہزار خوفناک و تنومند حبشی/زنگی جنگجو شامل تھے۔ مجاہدینِ اسلام کی شجاعت: دوسری طرف حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قیادت اور حضرت خالد بن ولید و حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی سپہ سالاری میں 20 ہزار شیرانِ اسلام پر مشتمل لشکرِ اسلام میدانِ جنگ (مرجِ کبیر) میں اترا۔ اس لشکر میں ضرار بن الازور، زبیر بن العوام، عبد الرحمٰن بن ابو بکر، فضل بن عباس اور دیگر جلیل القدر صحابہ و مجاہدین شامل تھے۔ ریاض، سعد اور لبنی کی داستان:ناول میں اسلامی لشکر کے دو نوجوان سرداروں اور قریبی دوستوں "ریاض" اور "سعد" کی داستانِ محبت اور غیرت کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ریاض ایک شاندار محمل میں سوار دوشیزہ "لبنی" کے حسن و جمال کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.