House of Urdu Book and Novels, Urdu Novels, Urdu Novel Download, Urdu Afsanay, Urdu Story, Noshad Adil Novels, New Urdu Novels,
Showing posts with label Syeda Ghazal Zaidi. Show all posts
Showing posts with label Syeda Ghazal Zaidi. Show all posts
Thursday, January 19, 2023
Tuesday, January 25, 2022
Saturday, August 22, 2020
Wo Jo Qarz Tha By Syeda Ghazal Zaidi
یہ سماجی اور رومانوی ناول دو بااثر خاندانوں کی نسل در نسل دشمنی، انتقام کی آگ، معافی کی طاقت اور محبت کے ذریعے زخموں کے بھرنے کی کہانی ہے۔
کہانی کا آغاز سردار اسحاق علوی اور میر شیر علی خان کے خاندانوں کی پرانی دشمنی سے ہوتا ہے۔ ایک حادثے میں سردار اسحاق کا کم عمر بیٹا جرار، میر شیر علی خان کے بیٹے کی بے سمت چلائی گئی گولی سے مارا جاتا ہے۔ میر شیر علی خان خون بہا دینا چاہتا ہے، مگر سردار اسحاق بدلے پر اڑ جاتا ہے۔ وہ دشمن کے کم سن بچے کو اغوا کر کے حویلی لے آتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اس بچے کے ساتھ ملازموں جیسا سلوک کیا جائے۔ اسے ہر لمحہ اذیت دی جائے تاکہ وہ پل پل مرے اور پل پل جیے۔
سردار اسحاق کا بیٹا احسان علوی یہ ظلم دیکھ کر دہل جاتا ہے۔ اس کا نرم دل اس معصوم بچے کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو برداشت نہیں کر پاتا۔ وہ باپ کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت تو نہیں رکھتا، مگر بچے کے لیے ہمدردی اور تحفظ کا سہارا بنتا ہے۔ دوسری طرف وقت کے ساتھ دشمنی کی یہ آگ نئی نسل تک پہنچ جاتی ہے۔ علی جیسے کردار، جرار اور میر شیر علی خان کے خاندان کے درمیان کشمکش، اغوا اور خفیہ ملاقاتوں کے واقعات کہانی کو تناؤ سے بھرپور رکھتے ہیں۔
ناول کا دوسرا بڑا حصہ نئی نسل کی محبت اور رشتوں کی آزمائش پر مبنی ہے۔ احسان علوی کا بیٹا کبیر اور دینیہ شاہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور کبیر اسے محبت کا یقین دلاتا ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ دینیہ پر کبیر کا اصل چہرہ کھلتا ہے۔ وہ مغرور، غصیلا اور تلخ مزاج نکلتا ہے، اپنی بات منوانے والا اور دوسروں کی عزت کا خیال نہ رکھنے والا۔ ایک رشتے میں جو احترام اور اعتماد ہونا چاہیے، دینیہ اسے کبیر کے ہاں نہیں پاتی۔
اسی دوران خطیب جرار علوی کا کردار سامنے آتا ہے۔ وہ نرم مزاج، ذمہ دار اور سچے دل کا انسان ہے۔ جرمنی کے سفر اور مختلف مواقع پر اس کی شخصیت کے یہ پہلو دینیہ پر کھلتے ہیں۔ کبیر کے رویے اور اس کی حرکتوں کے نتائج سامنے آتے ہیں، حتیٰ کہ ایک حادثے میں سفیر اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہو جاتا ہے اور خطیب اس کا حساب اپنے دل میں رکھتا ہے۔ ساتھ ہی خاندان کے بزرگ احسان علوی کی بیماری پورے گھر کو جھنجھوڑ دیتی ہے اور خطیب انہیں سہارا دینے اور ان کی طاقت بننے کا وعدہ کرتا ہے۔
آخر میں پرانی دشمنیاں ختم ہوتی ہیں، غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور رشتے سنبھل جاتے ہیں۔ دینیہ اپنا فیصلہ کرتی ہے اور خطیب کے ساتھ اس کا نکاح ہوتا ہے۔ کہانی ایک خوشگوار اور محبت بھرے اختتام پر پہنچتی ہے، جہاں احسان، مومنہ، کامران اور دوسرے کردار بھی اپنی اپنی خوشیاں پاتے ہیں۔
Wednesday, April 4, 2018
Subscribe to:
Posts (Atom)


