Pages

Showing posts with label Saleem Farooqi. Show all posts
Showing posts with label Saleem Farooqi. Show all posts

Monday, October 19, 2020

Dehshat Gard By Saleem Farooqi

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی سکندر (ملک کامران/کامی) کی آپ بیتی اور ماضی کی تلخ یادوں پر مشتمل ہے۔ کہانی کے آغاز میں سکندر الہ آباد (بھارت) کے ایک قصبے میں اچھے میاں کے گھر کے ایک اندھیرے کمرے میں روپوش ہے۔ وہ پولیس سے چھپ رہا ہے کیونکہ اس نے الہ آباد کے ایک بڑے پولیس افسر کو سرعام گولی مار دی تھی اور اب بھارتی پولیس اور "را" (RAW) اس کے خون کی پیاسی ہیں۔ وہاں اچھے میاں، ان کا بھائی اقبال اور ان کا ایک بااعتماد ساتھی احسان، سکندر کی مدد کرتے ہیں اور اسے بحفاظت وہاں سے نکالنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ احسان اسے بتاتا ہے کہ وہ "دالت الپ سنکھیک سو رکھشا" نامی ایک ایسی تنظیم سے منسلک ہے جو مسلمانوں اور اچھوتوں کی حفاظت کے لیے کام کرتی ہے۔
اسی روپوشی کے دوران سکندر کے ذہن میں اس کے ماضی کی تمام یادیں گھوم جاتی ہیں۔ وہ یاد کرتا ہے کہ کس طرح اس کے دادا خان بہادر ملک سلطان علی نے اس کے والد عرفان کو ایک غریب (کمی) کی بیٹی (کلثوم) سے شادی کرنے پر خاندانی وقار کی خاطر عاق کر دیا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد دادا نے سکندر اور اس کی ماں کو انتہائی ذلت کے ساتھ حویلی سے نکال دیا تھا، جس پر اس کے نانا خیر محمد (جو تانگا چلاتے تھے) انہیں لے کر کراچی منتقل ہو گئے۔ کراچی میں نانا اور ماں کی ان تھک محنت سے وہ آگے بڑھا، لیکن پہلے نانا کا کینسر سے انتقال ہوا اور پھر ایک خوبصورت لڑکی یاسمین سے محبت اور شادی کے تنازع پر اس کی ماں بھی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسیں۔
ماں کے انتقال کے بعد سکندر ایک خوفناک بین الاقوامی بلیک میلنگ اور دہشت گرد گروہ (سینڈیکیٹ) کے جال میں پھنس گیا۔ گروہ کے ارکان (یاسمین، اسد وغیرہ) نے اسے ایک جعلی قتل کے کیس میں پھنسا کر اور اس کی گارمنٹ فیکٹری کا استعمال کرتے ہوئے اسے منشیات کی اسمگلنگ، اغوا اور قتل و غارت گری کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ وہ لوگ اسے باقاعدہ دہشت گردی کی تربیت دیتے تھے اور دوسرے ممالک میں بدامنی پھیلانے کا کام لیتے تھے۔ جب بھی اس نے گروہ کے احکامات (مثلاً ملک کی ایک اہم اور محب وطن شخصیت کے قتل) سے انکار کیا یا الگ ہونے کی کوشش کی، تو سینڈیکیٹ نے اس کے پیچھے اپنے سفاک قاتل (مثلاً دلاور اور گلوریا) لگا دیے۔ آخر کار، ماضی کے ان تمام خونریز مراحل، تعاقب اور ہلاکتوں سے گزرتا ہوا وہ بھارتی پولیس کے محاصرے میں آ جاتا ہے اور اپنے وجود اور ضمیر کی جنگ لڑتا ہے۔