Pages

Showing posts with label Raheela Khalid. Show all posts
Showing posts with label Raheela Khalid. Show all posts

Thursday, October 8, 2026

Main Hoon Dilip Kumar Translate By Raheela Khalid

’میں ہوں دلیپ کمار‘ بالی ووڈ کے عظیم اور نامور اداکار دلیپ کمار (محمد یوسف خان) کی خود نوشت سوانح حیات کا اردو ترجمہ ہے جو راحیلہ خالد اور نظام الدولہ نے تحریر کیا ہے۔ اس کتاب میں دلیپ کمار نے پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار کی گلیوں میں اپنے پیدا ہونے سے لے کر ہندوستانی سنیما کا ’ٹریجڈی کنگ‘ اور شہنشاہِ جذبات بننے تک کا تمام سفر تفصیلاً بیان کیا ہے۔ کہانی کا آغاز ان کے پٹھان خاندانی پس منظر، دادا دادی اور والدین کی محبت، ایک فقیر کی پیشگوئی، اور بچپن کے پر مسرت ماحول و روایات کے تذکرے سے ہوتا ہے۔   بعد ازاں، معاشی حالات، دوسری جنگِ عظیم کے اثرات اور والد (آغا جی) کے پھلوں کے کاروبار کی وجہ سے ان کا خاندان بمبئی منتقل ہو گیا۔ بمبئی اور دیولالی میں قیام کے دوران انہوں نے تعلیم حاصل کی، انگریزی اور اردو ادب سے لگاؤ پیدا کیا اور فٹ بال کے کھیل میں گہری دلچسپی لی۔ والد سے معمولی اختلاف اور معاشی آزادی کے جذبے کے تحت وہ گھر چھوڑ کر پونا چلے گئے جہاں انہوں نے ایک برطانوی آرمی کینٹین میں مینیجر کے معاون اور سینڈوچ بیچنے کا کام کر کے اپنی صلاحیت ثابت کی۔ پھر بمبئی واپسی پر، چرچ گیٹ اسٹیشن پر ڈاکٹر مشانی کے توسط سے بمبئی ٹاکیز کی مالکہ دیویکا رانی سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے یوسف خان کی دلکش شخصیت، شستہ اردو اور انگریزی بول چال سے متاثر ہو کر انہیں 1250 روپے ماہانہ پر اداکار کے طور پر سائن کر لیا اور ان کا نام بدل کر "دلیپ کمار" رکھ دیا۔   1944ء میں فلم ’جوار بھاٹا‘ سے فلمی سفر کا آغاز کرنے کے بعد انہوں نے ’میلہ‘، ’شہید‘، ’انداز‘، ’دیوداس‘، ’آزاد‘، ’گنگا جمنا‘ اور ’مغلِ اعظم‘ جیسی شاہکار فلموں کے ذریعے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ کتاب میں راج کپور کے ساتھ کالج کی یادگار دوستی، اشوک کمار (اشوک بھیا) اور ایس مکھرجی کی رہنمائی، اپنے بھائی ایوب اور والدہ کی وفات کے دردناک صدمات، اور مختلف ہم عصر اداکاراؤں کے ساتھ کام کرنے کے تجارب کا ذکر بڑے خلوص سے کیا گیا ہے۔ یہ کتاب محض ایک اداکار کی زندگی کی داستان نہیں بلکہ برصغیر کے ماضی، ثقافت، خاندانی قدروں اور جذبات کی سچی تصویر ہے۔