Pages

Monday, November 2, 2026

Hairat Nak Kahaniyan By Jameel Jalibi

یہ بچوں کے ادب کی ایک چھوٹی سی کتاب ہے جس میں ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنے بچپن اور نوجوانی کے ایسے پراسرار اور خوفناک واقعات لکھے ہیں جن کا تعلق بھوتوں، چڑیلوں اور بد روحوں سے ہے۔ کتاب کے شروع میں مصنف بتاتے ہیں کہ ان کے بچوں سمیرا جمیل اور فرح جمیل نے فرمائش کی تھی کہ وہ یہ حیرت ناک باتیں لکھ دیں، اسی لیے یہ کتاب ان کے نام کی گئی ہے۔ کتاب میں دو کہانیاں ہیں: "چھن چھن چھن چھن" اور "بید کی کہانی"۔
چھن چھن چھن چھن
کہانی میں راوی (جمیل میاں) نوعمر لڑکا ہے۔ ایک شام گھر کے سب لوگ پیدل سینما دیکھنے جاتے ہیں، جن میں ان کے چچا بھی شامل ہیں۔ چچا کے پاس ایک خاص بید ہے جو ان کے والد (راوی کے دادا) کی نشانی ہے اور وہ اسے بہت عزیز رکھتے ہیں۔ بھتیجے کو بید لانے کا وعدہ کر کے چچا اسے لے کر جاتے ہیں۔ سینما سے لوٹتے ہوئے رات کافی ہو جاتی ہے اور گھر پہنچ کر چچا کو یاد آتا ہے کہ وہ بید سینما میں ہی بھول آئے ہیں۔ وہ غصے میں آ جاتے ہیں اور جمیل کو حکم دیتے ہیں کہ سائیکل پر جا کر فوراً بید لے آئے۔ بھائی ساتھ جانے سے انکار کر دیتے ہیں اور جمیل اکیلا ہی رات کے سناٹے میں سائیکل لے کر نکل پڑتا ہے۔
راستے میں مشہور "بابو کا کنواں" ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس میں ایک "سرکٹا" رہتا ہے۔ ایک کنویں کے پیچھے قبرستان بھی ہے۔ جمیل کو اچانک اپنے پیچھے گھنگھرووں کی آواز "چھن چھن چھن چھن" سنائی دیتی ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو بکری جیسا ایک جانور اس کے پیچھے آ رہا ہے۔ وہ تیز بھاگتا ہے تو وہ جانور بھی تیز ہو جاتا ہے۔ بابو کے کنویں کے پاس اسے ایک پراسرار آنکھوں والی شکل دکھائی دیتی ہے، اور پھر کفن میں لپٹا ایک سر کے بغیر آدمی اس کی طرف آتا ہے۔ جمیل چیخیں مارتا ہوا بھاگتا ہے اور کسی طرح گھر پہنچ کر لحاف میں دبک جاتا ہے۔
بید کی کہانی
دوسری کہانی میں انہی واقعات کے بعد کی باتیں ہیں۔ راوی ہاسٹل سے رات کو گھر آتے ہوئے ویران سڑکوں پر چلتا ہے تو اسی طرح ایک پراسرار آدمی کا سامنا ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں بید ہے۔ بابا (ایک بزرگ) اسے بتاتے ہیں کہ ایسی بد روحیں ویران راتوں میں بستی والوں کو پریشان کرنے آ نکلتی ہیں۔ اس کہانی کا آخری حصہ بتاتا ہے کہ راوی نے کئی برسوں بعد بھی اس بید کو بڑے صندوق میں لحافوں کے نیچے دبا کر رکھا ہوا ہے۔ چچا میاں اس بید کے کھو جانے کی وجہ سے مرتے دم تک ناراض رہے اور راوی کو اپنے باپ کی نشانی والی چیز کو لوٹانے کی ہمت کبھی نہ ہوئی۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.