ناول "اُچیاں مڄاجاں والا" مصنفہ فائزہ افتخار کا ایک بہترین اور دلچسپ معاشرتی و اصلاحی ناول ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار جہاں آرا بیگم ہیں جو اپنے اکلوتے بیٹے عالمگیر زیدی اور مرحوم شوہر کی یادوں کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ عالمگیر ایک خود پسند، اکھڑ مزاج اور پڑھا لکھا نوجوان ہے جو اپنے علاوہ کسی کو اہمیت نہیں دیتا۔ جہاں آرا اپنے دیور نجیب اللہ اور اس کی سمجھ دار بیوی نرگس کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتی ہیں۔
کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب نرگس کی چھوٹی بہن "جاوداں" کچھ عرصے کے لیے ان کے گھر رہنے آتی ہے۔ جاوداں ایک سلجھی ہوئی، محنتی اور بااصول لڑکی ہے، جو گھر کے کاموں میں جہاں آرا کا ہاتھ بٹاتی ہے اور بچوں کو بھی پڑھاتی ہے۔ عالمگیر اور جاوداں کی ابتدا میں نوک جھونک اور طنزیہ جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے، کیونکہ عالمگیر کو ہر بات پر تنقید کرنے اور دوسروں کا مذاق اڑانے کی عادت ہوتی ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ جہاں آرا کی شدید خواہش اور خاندانی حالات کے پیشِ نظر ان کا رشتہ طے پانے کی بات چلتی ہے۔
کہانی میں ایک اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب جہاں آرا شدید بیمار ہو جاتی ہیں اور حادثے کا شکار بھی ہوتی ہیں، جس سے گھر کا ماحول یکسر بدل جاتا ہے۔ اس مشکل وقت میں جہاں عالمگیر کے اندر چھپی ہوئی حسساسیت اور ذمہ داری ابھر کر سامنے آتی ہے، وہیں جاوداں کی خلوص نیت اور محنت سب کا دل جیت لیتی ہے۔ بالآخر، عالمگیر اپنی خود پسندی کے خول سے باہر نکلتا ہے اور تمام غلط فہمیوں اور تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر جاوداں کو اپنی شریکِ حیات کے طور پر قبول کرتا ہے۔ ناول انسان کو غرور ترک کرنے، اپنوں کے خلوص کی قدر کرنے اور زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کا درس دیتا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.