Pages

Sunday, October 11, 2026

Sufaid Raatein Translate By Dua Book Palace

’سفید راتیں‘ روسی ادب کے جید کلاسک مصنف فیودور دوستوفسکی کا ایک دل کو چھو لینے والا شاہکار ناول ہے جسے دعا بک پیلس، کراچی کے تحت اردو قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ یہ کہانی ایک تنہا، تنہائی پسند اور خیالی دنیا میں رہنے والے نوجوان (خواب دیکھنے والے) کی زبانی بیان کی گئی ہے جو سینٹ پیٹرزبرگ کی سنسان اور روشن راتوں میں اکیلا گھوما کرتا ہے۔ ایک شب، نہر کے کنارے اس کی ملاقات ”نسٹینکا“ نامی ایک ایسی دلکش لڑکی سے ہوتی ہے جو کسی پرانے غم میں مبتلا رو رہی ہوتی ہے۔ نسٹینکا اپنی دادی کے ساتھ سختی اور قید جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور ایک ایسے شخص کی محبت میں گرفتار ہے جس نے ایک سال قبل ماسکو جانے کے بعد واپس لوٹنے کا وعدہ کیا تھا۔   اگلے تین دنوں تک یہ دونوں مسلسل سفید راتوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اپنے دل کی باتیں بانٹتے ہیں اور خوابیدہ دنیا کے قصے سناتے ہیں۔ کہانی کا مرکزی ہیرو نسٹینکا کی صحبت سے عشق کر بیٹھتا ہے اور اس کی محبت میں پناہ پاتا ہے۔ آخری رات جب اس کا محبوب طویل انتظار کے باوجود واپس نہیں آتا تو نسٹینکا ناامید ہو کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی ہے۔ ہیرو ہمدردی کی انتہا کرتے ہوئے اس کے غم کو بانٹتا ہے اور اپنے ٹوٹے ہوئے دل کے باوجود اسے تسلی دیتا ہے۔ اتنے میں اچانک نسٹینکا کا وہ پرانا محبوب وہاں آجاتا ہے؛ نسٹینکا خوشی سے اس کی بانہوں میں چلی جاتی ہے اور جاتے ہوئے ہیرو کو گلے لگا کر ہمیشہ دوست رہنے کا کہتی ہے۔ ناول کا اختتام اس دلگیر احساس پر ہوتا ہے کہ ہیرو کا یہ ایک مختصر سا جذباتی لمحہ اور کسی کی خوشی کا ذریعہ بننا ہی اس کی پوری تنہا زندگی کے لیے کافی تھا۔ 

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.