یہ کہانی صرف رومان یا دولت کی دوڑ کی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے قلندرانہ سوچ اور کردار کی ہے جو دنیا کی زنجیروں سے آزاد ہو کر دوسروں کے دکھ بانٹنے اور حق کی خاطر لڑنے کو اپنی زندگی کا مقصد بناتا ہے। سلمان شاہ اور اس کے ساتھی معاشرے کی برائیوں، خاص طور پر منشیات کے خلاف خفیہ تحریک چلاتے ہیں۔ دوسری طرف، گھریلو جکڑ بندیاں، جذباتی رشتے، اور علیزہ اور زویا جیسے کرداروں کی جذباتی کشمکش اس کہانی کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔ ناول میں محبت، نفرت، دوستی، دشمنی اور حق و باطل کی یہ جنگ پڑھنے والے کو اپنے اندر کا قلندر ڈھونڈنے پر مجبور کرتی ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.