ہ کہانی دو لڑکیوں زاشا اور رفعیہ بانو (زاشا کی ماں) کے گرد گھومتی ہے۔ شروع میں زاشا ایک ملازمت پیشہ لڑکی کے طور پر سامنے آتی ہے، جس کے رشتے اسی لیے ٹوٹتے ہیں کہ وہ نوکری کرتی ہے۔ رشتہ دیکھنے آئی الفت آنٹی اس سے کہتی ہیں کہ پڑھی لکھی لڑکی تو ٹھیک ہے مگر کماؤ بیوی نہیں۔ زاشا صاف کہہ دیتی ہے کہ وہ نوکری اپنی مرضی سے کرتی ہے اور اپنی کمائی خود پر خرچ کرے گی۔ ایسا شوہر وہ نہیں چاہتی جو اس کی کمائی پر پلے۔ وہ ماں سے بھی یہ بات کرتی ہے کہ وہ ایسا مرد چاہتی ہے جو محنتی ہو اور ذمہ داری اٹھائے۔
زاشا کی ماں رفعیہ بانو ایک مضبوط عورت ہیں جنہوں نے شوہر کے ظلم کے باوجود بیٹی کو پالا۔ زاشا کا باپ نشئی اور آوارہ تھا، بیوی کو مارتا پیٹتا اور پیسے چھین لیتا تھا۔ بچپن میں زاشا نے یہ سب دیکھا اور سہا۔ بی ایس سی کے دوران باپ کی لاش ملی اور زاشا کو اس کی موت پر رونا تک نہ آیا۔ اس کے بعد دوستوں نے بھی کنارہ کیا، کیونکہ اسے "بشیر چرسی کی بیٹی" کے طعنے سنے پڑتے تھے۔ اسی لیے وہ کسی سے قریبی تعلق نہیں رکھتی اور اپنے ماضی کو چھپاتی ہے۔
کمپنی کی طرف سے زاشا دو ہفتے کی ٹریننگ کے لیے استنبول (ترکی) جاتی ہے۔ وہاں ہوٹل کے ریستوران میں اس کی ملاقات بلال سے ہوتی ہے۔ وہ اسے ترک یا ایرانی سمجھ کر انگریزی میں بات کرتی ہے اور اسے "شارٹ کٹ" کہہ کر مذاق بھی بنا دیتی ہے، مگر بعد میں پتا چلتا ہے کہ بلال پاکستانی نژاد ہے۔ اس کے والد پاکستانی اور والدہ ترک ہیں۔ زاشا کو شرمندگی ہوتی ہے مگر بلال اس بات کا برا نہیں مناتا اور اسے استنبول گھمانے کی پیشکش کرتا ہے۔
بلال اسے بورصہ لے جاتا ہے اور اپنی ماں فیروز سے ملواتا ہے، جو زاشا کے لیے تازہ روٹی اور پاکستانی کھانا بنواتی ہیں۔ بلال کی کہانی میں اس کا باپ ایک محنتی اور ذمہ دار انسان ہے۔ اس نے اپنی بیوی کو پی ایچ ڈی کرنے دی اور ہمیشہ گھر کا خرچ خود اٹھایا۔ زاشا کو یہ سن کر حیرت بھی ہوتی ہے اور اندر ہی اندر دکھ بھی کہ اسے ایسا باپ کیوں نہ ملا۔
وقت گزرنے کے ساتھ زاشا بلال کی صحبت میں سکون محسوس کرنے لگتی ہے۔ بلال اس کا خیال رکھتا ہے، اسے وقت دیتا ہے اور شہر کی سیر کراتا ہے۔ آخری شام دونوں کے درمیان "آپ" اور "تم" پر بات ہوتی ہے۔ بلال کہتا ہے کہ وہ اسے اپنے گھر والوں سے ملوانا چاہتا ہے، مگر زاشا رو پڑتی ہے اور پہلی بار اپنا راز کھول دیتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ وہ ایک نشئی باپ کی بیٹی ہے اور اسی وجہ سے بلال کے خاندان میں شامل ہونے کے قابل نہیں۔
بلال اس کی بات سن کر کہتا ہے کہ باپ کے گناہوں کی سزا بیٹی کو دینا عقلمندی نہیں۔ زاشا کا کردار اس کا اپنا ہے اور اس کی ماں کی محنت نے اسے اس مقام تک پہنچایا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ اس "مقیاس" (پیمانے) کو توڑ دیتا ہے جس میں زاشا کو اس کے باپ کے گناہوں سے ناپا جاتا ہے۔ زاشا کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ کوئی اسے اس کے ماضی سے الگ کر کے دیکھ سکتا ہے۔ کہانی کا اختتام ہلکے پھلکے انداز میں ہوتا ہے، جب وہ دونوں ہنستے ہوئے ہوٹل کی طرف لوٹتے ہیں۔ زاشا کو ماں کو بتانا تھا کہ جو وہ کہتی تھیں کہ خدا خود ڈھونڈ لے گا، آخرکار اس نے اسے ڈھونڈ ہی لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.