اردو ناول "گلِ نین" مصنفہ ام اقصی کی ایک جذباتی اور اصلاحی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار گلِ نین ایک سادہ اور کند ذہن سمجھی جانے والی لڑکی ہے، جس کی شادی طیب سے ہوتی ہے۔ طیب پہلے سے کسی اور لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے اور شادی کے بعد بھی گلِ نین کو دل سے قبول نہیں کرتا۔ ساس کی نصیحتوں اور صابرانہ سوچ کے ساتھ گلِ نین اپنے رشتے کو بچانے اور شوہر کا دل جیتنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے، حتیٰ کہ اپنے زیورات اور میکے کا حصہ بیچ کر طیب کی مالی مشکلات بھی دور کرتی ہے۔ تاہم، دو بچوں کی پیدائش کے بعد بھی طیب اس کو گھر سے نکال کر دوسری شادی کر لیتا ہے۔
غربت اور بچوں کی پرورش کے کٹھن مراحل سے گزرتے ہوئے، گلِ نین اپنے دونوں بیٹوں (صفی اللہ اور ذکی اللہ) کی محنت سے پرورش کرتی ہے۔ مگر بڑے ہو کر دونوں بیٹے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں؛ صفی اللہ بیرونِ ملک جا کر ماں کو بھول جاتا ہے اور ذکی اللہ شادی کی خاطر ماں کی محنت اور قربانیوں کو ٹھکرا کر اسے بے سہارا چھوڑ دیتا ہے۔
کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب ذکوان (جس کا تعلق ایک الگ خاندانی پس منظر سے ہے اور جو اپنی مرحومہ ماں کی یادوں اور باپ کی رویوں سے متاثر ہوتا ہے) گلِ نین کی بے بستی اور بیماری کا حال جان کر اسے اپنی دادی کے درجے پر اپنے ساتھ لے آتا ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.