Download Link A
Download Link B
Download Link B
یہ کہانی 'اسلم' نامی ایک بچے کے گرد گھومتی ہے، جس کا تعلق ۱۹۴۷ء کی تقسیم ہند کے وقت ضلع گورداسپور کے گاؤں حسن پور سے تھا۔ تقسیم کے بعد ریڈکلف ایوارڈ کی ناانصافی کے باعث گورداسپور بھارت میں شامل کر دیا گیا، جس کے بعد سکھوں کے مظالم اور ہنگاموں میں اسلم کا پورا خاندان (والد، والدہ اور بہنیں) شہید ہو گئے۔ اسلم اپنے بھائی اکرم کے ساتھ کھیتوں کے راستے راوی کی طرف بھاگا، لیکن راوی پار کرتے ہوئے بھائی بھی گولیوں کا شکار ہو کر شہید ہو گیا۔ اسلم اکیلا، ننگے پاؤں اور ہاتھ میں پاکستانی پرچم لیے پاک سرزمین پر اترا، جہاں اس کے تایا زاد اور سکول ماسٹر عبد الشکور نے اسے اپنے بچوں کی طرح پالا اور تعلیم دلائی۔ اسلم نے محنت اور تعلیم کو اپنا مقصد بنایا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوا۔ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں اس کے بھائی میجر عامر نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ ۱۹۷۱ء کے سانحہ مشرقی پاکستان میں اس کی اہلیہ شاہدہ کے گھر والے ڈھاکہ میں شہید ہو گئے۔ ان تمام ذاتی و قومی صدمات کے باوجود اسلم نے ہمت نہ ہاری اور 'آغوش' نامی فلاحی تنظیم کے ذریعے لاوارث بچوں، خواتین اور محتاجوں کی خدمت کی اور معاشرے کے لیے ایک فعال شہری بنا۔ کہانی کا اختتام اسلم کے اس تاریخی اور جذباتی پیغام پر ہوتا ہے کہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانی دی گئی ہے، اور نئی نسل کو اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.