عاطر شاہین کا تحریر کردہ سسپنس اور ڈرامائی سچی تبدیلیوں پر مبنی ناول "آنہونی"، تین گہری سہیلیوں—نادیہ، حمنہ اور عائشہ—کی کہانی پر محیط ہے۔ نادیہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور اپنے والد و بھائی کے ساتھ ہوٹل کا بزنس سنبھالتی ہے، جبکہ حمنہ اور عائشہ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ کہانی میں اچانک موڑ اس وقت آتا ہے جب عائشہ بغیر کسی کو بتائے پراسرار طور پر یونیورسٹی سے غائب ہو جاتی ہے اور اس کا پورا گھرانہ شہر چھوڑ کر چلا جاتا ہے، جس پر نادیہ اور حمنہ شدید پریشان اور دکھ میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ پراسرار نئی تقرری: تعلیم مکمل ہونے کے بعد نادیہ اپنے والد کے ہوٹل کی دیکھ بھال شروع کرتی ہے، جہاں لندن سے ہسٹری اور مینجمنٹ پاس ایک انتہائی قابل، ذہین اور جاذبِ نظر نوجوان "حسیب اشرف" بطور جنرل منیجر تعینات ہوتا ہے۔ حقیقت کا انکشاف: حسیب کی کچھ عادات، ہاتھوں پر کٹ کا نشان اور گفتگو کا انداز نادیہ کو عائشہ کی یاد دلاتا ہے۔ بعد میں حمنہ اور حسیب کی گفتگو سے نادیہ پر یہ حیران کن اور انوکھا سچ کھلتا ہے کہ حسیب اصل میں وہی عائشہ ہے۔ قدرتی تبدیلی اور آپریشن: عائشہ میں قدرتی جسمانی و ہارمونل تبدیلیوں کے باعث اسے ہنگامی بنیادوں پر لندن جا کر آپریشن کروانا پڑا، جس سے وہ لڑکی سے مکمل مرد میں تبدیل ہو گئی اور اس نے اپنا نیا نام "حسیب اشرف" رکھا۔ شرمندگی اور سرپرائز دینے کی وجہ سے اس نے اپنا ماضی عارضی طور پر چھپایا تھا۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.