Download Link A
Download Link B
Download Link B
یہ کہانی پریزے (زری) کی زندگی، اس کی محبت اور اس کی تذلیل و شکست کے گرد گھومتی ہے۔ پریزے بچپن سے ہی اپنے کزن اسفند یار سے محبت کرتی تھی اور اسے اپنی زندگی کا سب کچھ مان بیٹھی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ اس خام خیال اور وہم کا شکار ہو گئی کہ اسفند یار بھی اس سے محبت کرتا ہے اور ان کا نکاح جلد ہو جائے گا۔
تاہم، کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب زری کی شادی کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہوتی ہیں اور وہ دلہن کے روپ میں سج دھج کر بارات کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ بالکل آخری وقت پر اسفند یار کی طرف سے طلاق (یا شادی سے مکمل انکار) کا خط ملتا ہے۔ اس اچانک اور ہولناک خبر سے زری پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے، اس کا دل پاش پاش ہو جاتا ہے اور وہ ہوش و حواس کھو کر منہ کے بل گر پڑتی ہے، جس سے اس کا گھر خوشیوں کے بجائے ماتم کدہ بن جاتا ہے۔
اسفند یار زری پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے خود اس رشتے کی شروعات کی تھی اور ان کے درمیان محبت جیسا کچھ نہیں تھا۔ اپنی عزتِ نفس کو لٹتا دیکھ کر اور اسفند یار کے بے حس رویے سے ٹوٹ کر زری کی ذات میں شدید تلخی اور خالی پن آ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.