Download Link B
’گنگا اور طوفان‘ یعقوب جمیل کا لکھا ہوا ایک سچا اور تہلکہ خیز تاریخی واقعہ ہے جس کی کہانی انگریزوں کے دورِ حکومت کے راجستھان کے پس منظر میں رقم کی گئی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار گنگا، راجستھان کے ایک گاؤں درگا پور میں پنڈت سیتا رام کے گھر پیدا ہونے والی ایک غیر معمولی، انتہائی ذہین اور بہادر لڑکی ہے۔ پرانے مذہبی اور سماجی تعصبات کے باوجود اس کے والد اسے لڑکوں کے اسکول میں داخل کرواتے ہیں اور وہ پورے راجستھان میں میٹرک پاس کرنے والی پہلی لڑکی بن کر ابھرتی ہے۔ والد کے انتقال کے بعد گنگا اپنے چھوٹے بھائی شیو اور والدہ کی تمام ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر اٹھا لیتی ہے اور گاؤں کی لڑکیوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ لاٹھی، تیر کمان اور دفاعی علوم سکھانے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ گنگا کی منگنی ڈاکٹر بننے کی کوششوں میں مصروف نوجوان درگیش سے طے شدہ ہے۔ تاہم، درگا پور کے تھا کر خاندان کا ہوس پرست اور اوباش نوجوان وارث، ٹھا کر شمشیر سنگھ، گنگا کے حسن پر بدنیتی رکھ کر اسے حاصل کرنے کی سازشیں شروع کر دیتا ہے۔ شمشیر سنگھ گنگا کے لالچی، شرابی اور جواری چچا دتا رام کو رقم اور عیش و عشرت کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔ دتا رام درگیش کی طرف سے گنگا کے نام آئے ہوئے محبت بھرے خطوط کو چرانے اور گنگا کی زندگی میں زہر گھولنے کا آلہ کار بنتا ہے۔ مظلومیت کے خلاف اٹھی ہوئی یہ کہانی یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ظلم کی حدیں پار ہونے پر ایک سادہ لوح لڑکی ظالموں اور حالات کے خلاف طوفان بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.