نبیلہ عزیز کا ناول "بے داغ" عزت، انا، خاندانی دباؤ اور ایک معصوم لڑکی کی بے گناہی کی کہانی ہے۔ کہانی کا آغاز زرقون نامی لڑکی کے گرد گھومتا ہے، جس پر اس کے اپنے بھائی فیاض احمد کی طرف سے بے بنیاد الزام تراشی کی جاتی ہے۔ فیاض احمد اپنے محلے میں عزت بچانے کی خاطراور اپنی سنگدلانہ انا کے تحت عزیر ہمدانی (جو ایک باشعور اور خوددار مرد ہے) کو مجبور کرتا ہے کہ وہ یا تو زرقون سے نکاح کرے یا پھر گولی کھائے۔ عزیر، زرقون کی جان بچانے اور اپنی مردانگی و انا کی خاطر اس سے نکاح کر کے اسے اپنے گھر لے آتا ہے۔ عزیر کے گھر والے (خصوصاً اس کی ماں روحانہ بیگم اور منگیتر ماریہ) اس ناگہانی شادی کو قبول نہیں کرتے اور زرقون کے ساتھ انتہائی سرد اور تحقیر آمیز رویہ رکھتے ہیں۔ عزیر گھر والوں کی سخت مخالفت اور دھمکیوں کے باوجود زرقون کا ڈھال بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ زرقون، جو اپنی قسمت اور حالات سے ٹوٹ چکی ہے، عزیر کو پریشانی سے بچانے کے لیے طلاق کی پیشکش بھی کرتی ہے، لیکن عزیر ایک بااصول مرد کی طرح اس کی بے گناہی اور پاک دامنی پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.