Pages

Sunday, June 14, 2026

Hazaron Khwahishen Novel By Muhammad Zafar Hussain

Download Link A
"ہزاروں خواہشیں" سمندری زندگی کے پس منظر میں لکھی گئی ایک انتہائی سبق آموز، حقیقت پسندانہ اور جذباتی کہانی ہے، جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کے مابین تلخ خاندانی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کہانی کا آغاز ایرانی بندرگاہ پر لنگر انداز ایک آئل ٹینکر 'ایم وی ایگل' سے ہوتا ہے، جہاں ایرانی چیف آفیسر کے اچانک چلے جانے کے بعد کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ سی مین، انعام اللہ (چیف صاحب) کو متبادل کے طور پر بلوایا جاتا ہے۔ چیف صاحب جدید ڈیجیٹل مواصلاتی نظام اور کمپیوٹر سے ناواقف ہیں اور ان کی صحت بھی گر رہی ہے، جس کی وجہ سے جہاز کا سیکنڈ آفیسر (کہانی کا راوی) ہمدردی کے تحت ان کے دفتری کام کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے۔
کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب سنگاپور میں مرمت کے بعد جہاز واپس ایران پہنچتا ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے باعث جنگ چھڑ جاتی ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے جہاز مہینوں سمندر میں پھنس جاتا ہے۔ راشن اور پینے کا پانی ختم ہو جاتا ہے اور تنخواہیں رک جاتی ہیں۔ اس سنگین صورتحال میں بھی چیف صاحب کا نالائق اور خود غرض خاندان ان کی زندگی اور صحت کی پرواہ کیے بغیر عید، سالگرہ اور قربانی کے لیے الیکٹرک بائیک اور مہنگے جانوروں جیسی فرمائشوں کی بھرمار رکھتا ہے۔ چیف صاحب جوانی میں پیسے نہ بچا پانے اور اولاد کو فری ہینڈ دینے کے باعث بوڑھاپے میں اس دلدل میں پھنس چکے ہیں جہاں وہ خاندان کے لیے محض ایک 'قربانی کا بکرا' بن کر رہ گئے ہیں۔ آخر کار، سیکنڈ آفیسر چیف صاحب کی گرتی ہوئی صحت کو بچانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور حکومتِ پاکستان کی مدد سے انہیں باحفاظت وطن واپس پہنچاتا ہے، جہاں وہ نمود و نمائش کے بجائے اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے اور سچی قربانی کا فلسفہ سیکھتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.