یہ ناول تقسیمِ ہند سے پہلے کے گورداسپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں "شاہ پور" کی کہانی ہے، جہاں مسلمان، سکھ اور ہندو صدیوں سے مل جل کر رہ رہے تھے۔ کہانی کا مرکزی کردار سلیم ایک دیسی کسان اور مسلمان نوجوان ہے، جو اپنے کھیتوں اور بیلوں سے محبت کرتا ہے۔ سلیم دل ہی دل میں اپنے گاؤں کی ایک سکھ لڑکی پرجھو (پرتھو) سے محبت کرتا ہے۔ پرجھو بھی سلیم کی طرف مائل ہے اور دونوں کے درمیان محبت کا ایک خاموش رشتہ موجود ہے، لیکن مذہبی اور معاشرتی دیواروں کی وجہ سے وہ اس کا سرعام اظہار کرنے سے کتراتی ہے۔ گاؤں کے بزرگ، جیسے سلیم کے والد فتح محمد، خیر دین اور شمشیر سنگھ، ماضی کی مشترکہ یادوں اور گہری دوستی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ عید کے موقع پر جہاں پورا گاؤں خوشیاں مناتا ہے اور سکھ برادری مسلمانوں کو عیدیاں دیتی ہے، وہیں گاؤں کے بھائی چارے کی ایک بڑی مثال اس وقت سامنے آتی ہے جب فتح محمد مسجد کے سامنے اپنا قیمتی پلاٹ سکھ برادری کو گردوارہ بنانے کے لیے مفت تحفے میں دے دیتا ہے۔ اس فیصلے کا پورے گاؤں میں خیرمقدم کیا جاتا ہے اور سکھ بزرگ "واہے گرو جی کا خالصہ، واہے گرو جی کی فتح" کے نعروں سے اس محبت کا جواب دیتے ہیں۔ تاہم، اس خوبصورت ماحول کے پسِ پردہ کچھ منفی اور شرپسند عناصر بھی سرگرم ہیں۔ جان سنگھ اور مہندر جیسے ہندو اور سکھ نوجوان مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بونے اور ماحول کو خراب کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ کہانی میں اس وقت ایک بڑا طوفان اور موڑ آتا ہے جب امرتسر کے ایک امیر اور مغرور سکھ ادھم سنگھ کی انٹری ہوتی ہے، جو شمشیر سنگھ کا بھانجا اور پرجھو کا ہونے والا منگیتر ہے۔ ادھم سنگھ کے گاؤں میں آنے اور سلیم کے ساتھ اس کی تلخ کلامی سے کہانی میں ایک شدید تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ ناول محبت، رواداری اور تقسیم کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جہاں سیاسی اور مذہبی سازشیں صدیوں پرانے انسانی رشتوں کو مٹانے کے درپے تھیں۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.