Download Link A
Download Link B
Download Link B
یہ اقتباس ایم اے راحت کے مشہور پراسرار ناول "دیوی کا مجسمہ" (شبلیس سیریز، حصہ 5) سے لیا گیا ہے۔ کہانی کا آغاز مرکزی کردار اور اس کے تابع جن 'رجب علی' کے ٹرین کے سفر سے ہوتا ہے، جہاں رجب علی اپنی نادیدہ شکل میں ایک راجپوت نوجوان 'جھاپک رام' کو تنگ کرنے کے لیے اس کی مونچھیں اکھاڑ کر ٹھوڑی پر داڑھی کی جگہ لگا دیتا ہے۔ ٹرین میں موجود ایک معمر شخص 'کیتھا رام' اسے کوئی پہنچا ہوا سادھو سنت سمجھ کر پاؤں پکڑ لیتا ہے، جس پر رجب علی اشارے سے جھاپک رام کو ٹھیک کر دیتا ہے۔ ہردوار پہنچ کر کیتھا رام دوبارہ مرکزی کردار سے ملتا ہے اور اسے اپنے پرانے مالک 'امرت پال سانگا' کے اکلوتے بیٹے 'گنیش پال سانگا' کی حالتِ زار بتاتا ہے، جو پراسرار طور پر بولنے اور چلنے پھرنے سے قاصر ہو کر ایک "پتھر کا مجسمہ" بن چکا ہے۔ مرکزی کردار، رجب علی کو 'سنیل شرما' کا انسانی روپ دے کر امرت پال کے ہاں 'کالکا نواس' میں قیام کرتا ہے۔ وہاں امرت پال کی بڑی بیٹی 'سریتا' ان پر شک کرتی ہے، لیکن مرکزی کردار اپنے ذہنی اثر (ٹرانس) سے درخت کے پرندوں کو اس کے سر اور شانوں پر بٹھا کر اپنی شکتیوں کا قائل کر دیتا ہے۔ رات کے وقت مرکزی کردار تنہائی میں گنیش پال کے دماغ کا جائزہ لیتا ہے اور اپنے ذہنی اثر سے اس کے دماغ کے تاریک خلا میں ایک پراسرار خوبصورت عورت کا چہرہ اور ایک مندر نما عمارت کے خاکے دیکھتا ہے۔ وہ کاغذ پر اس عورت کا سکیچ بناتا ہے، جسے دیکھ کر گنیش پال کی ماں 'رانی امریتا' چونک اٹھتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ ایک بار درگا پور سے واپسی پر کالی آندھی کے دوران انہوں نے 'چیتن نگر' کے جنگل میں ایک دھرم شالہ میں پناہ لی تھی، جہاں بھورے پتھر کا ایک حسین مجسمہ موجود تھا۔ گنیش اس مجسمے کو گھورتا رہا تھا، لیکن جب پجاری نے بتایا کہ وہ پتھر نہیں بلکہ 'رانی کیکاوتی' ہے جو جیتی جاگتی ہے، تو دوبارہ دیکھنے پر وہ مجسمہ وہاں سے غائب ہو چکا تھا۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.