Pages

Wednesday, June 10, 2026

Be Aasra By Neema Gul Memon

یہ کہانی دو اہم کرداروں، احد اور صبا کے گرد گھومتی ہے۔ احد ایک امیر کبیر اور نامور جج شمشیر رضوی کا اکلوتا بیٹا ہے جو مزاجاً خود پسند، ضدی لیکن اندر سے مخلص انسان ہے۔ ایک طوفانی رات بارش میں احد کو اپنے گھر کے لان میں ایک آٹھ سالہ سہمی ہوئی بچی صبا ملتی ہے، جس کے والدین سیلاب میں انتقال کر چکے تھے اور وہ اپنے خالو کے برے رویے اور ہوس سے تنگ آکر گھر سے بھاگ نکلی تھی۔ احد اور اس کے والد صبا کو اپنے گھر میں پناہ دیتے ہیں اور احد اس کی تمام ذمہ داری اپنے سر لے لیتا ہے۔  وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صبا احد کی دیکھ بھال میں پڑھ لکھ کر جوان ہو جاتی ہے، اور احد لاشعوری طور پر اس کی حفاظت اور زندگی کے معاملے میں بہت زیادہ پوزیسیو (محتاط) ہو جاتا ہے۔ احد پڑھائی مکمل کر کے بیرسٹر بن جاتا ہے۔ کہانی میں اس وقت موڑ آتا ہے جب احد پر اسلام آباد میں ایک قاتلانہ حملہ ہوتا ہے، جس سے صبا کی اس کے لیے سچی محبت اور فکر کھل کر سامنے آتی ہے۔ احد کے والد دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے موجود محبت اور اپنائیت کو بھانپ لیتے ہیں اور احد کی مرضی کے بغیر نکاح کا ڈرامہ رچاتے ہیں، جس پر احد طیش میں آ جاتا ہے۔ آخر میں شمشیر رضوی انکشاف کرتے ہیں کہ وہ صبا کی شادی کسی اور سے نہیں بلکہ خود احد سے کر رہے ہیں، اور یوں یہ خوبصورت کہانی اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.