Download Link A
Download Link B
Download Link B
انجانے راستے سید علی حسن گیلانی کا تحریر کردہ ایک خوفناک، پُراسرار اور اسلامی معلومات پر مبنی ناول ہے-کہانی کا آغاز کینیا کے جنگلوں سے ہوتا ہے جہاں امریکی ایجنسی "سپر گروپ" کے چیف میجر کارڈوف اور ان کی اسسٹنٹ کیپٹن سلینا ایک کیس کے سلسلے میں بھٹک کر ایک سیاہ اور ہولناک وادی کے غار میں پناہ لیتے ہیں- دوسری طرف، پاکستان میں شاہ زیب (ایک لاابالی کردار) اپنے ساتھیوں موتو، کاسٹر، ڈین جونز، مظہر اور کاشف کے ساتھ ایک ہوٹل میں موجود ہوتا ہے کہ اچانک اسے مارتھا کے اغوا کی خبر ملتی ہے، جس کا بیڈ روم جلا ہوا ہوتا ہے مگر لاش غائب ہوتی ہے- انڈیا میں ڈاکٹر عبدالجبار، ایس پی زین، ہارون اور ناصر خان بھی ایک ہوٹل میں ہوتے ہیں کہ انہیں بھی ماریا کے فلیٹ سے پُراسرار غائب ہونے کی اطلاع ملتی ہے- مارتھا اور ماریا دونوں کو شیطان کے خاص کارندے "مہان کالکا" نے کالا جادو اور سفلی طاقتوں کے ذریعے اغوا کر کے "کالی دنیا" (شیطان پرستوں کی سرزمین) میں قید کر رکھا ہے تاکہ اماوس کی رات کو ان کی قربانی دی جا سکے- مارتھا قید میں ہمت دکھاتے ہوئے آیت الکرسی کا ورد کرتی ہے- شاہ زیب اور اس کے ساتھی رہنمائی کے لیے پروفیسر صادق علی کے پاس جاتے ہیں، جو اپنے کشف کے ذریعے بتاتے ہیں کہ مہان کالکا شیطان کا بڑا گرو ہے اور اس نے ماریا اور مارتھا کو کالی دنیا میں قید کیا ہوا ہے- ڈاکٹر عبدالجبار بھی نینی تال کے بزرگ مہتاب علی شاہ سے مدد لینے نکلتے ہیں مگر راستے میں سیاہ شعلوں والے آگ کے الاؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ ناول روشنی اور تاریکی (رحمانی اور شیطانی قوتوں) کے درمیان معرکے پر مبنی ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.