"آخری آدمی" اردو کے نامور افسانہ نگار انتظار حسین کا ایک مایہ ناز علامتی اور اساطیری افسانوی مجموعہ ہے۔ اس کتاب کے دیباچے میں سجاد باقر رضوی نے تقسیمِ ہند کے بعد پیدا ہونے والے نئے تہذیبی و تاریخی شعور اور انتظار حسین کے منفرد اسلوب پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اس مجموعے کی کہانیاں انسان کے اخلاقی، روحانی اور تہذیبی زوال کی عکاسی کرتی ہیں۔ کتاب کی چند نمایاں کہانیاں درج ذیل ہیں: آخری آدمی: یہ کتاب کی پہلی کہانی ہے جو بائبل اور قرآن پاک کے تاریخی پس منظر (سبت کے دن مچھلیوں کے شکار کی ممانعت اور حکم عدولی) سے ماخوذ ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح انسان اپنی حرص، مکر اور خوف جیسے منفی جذبات کے باعث انسانی سطح سے گر کر بندر بن جاتے ہیں۔ الیاسف نامی شخص آخری وقت تک انسان رہنے کی جدوجہد کرتا ہے مگر داخلی مکر اور خارجی طور پر "لفظ کی موت" (معاشرتی رشتوں کے خاتمے) کے سبب وہ بھی بالآخر بندر بن جاتا ہے۔ زرد کتا: یہ کہانی صوفیائے کرام کے ملفوظات کے اسلوب میں لکھی گئی ہے۔
یہاں "زرد کتا" انسان کے نفسِ امارہ اور طمعِ دنیا کی علامت ہے۔ کہانی میں ایک ایسے معاشرے کی تصویر کشی کی گئی ہے جہاں علم ناپید ہو جاتا ہے، لوگ سماعت سے محروم ہو جاتے ہیں اور منافقت عام ہو جاتی ہے۔
پر چھائیں: یہ انسانی وجود، وہم، خوف اور شناخت کی گمشدگی کی ایک نفسیاتی اور علامتی داستان ہے، جہاں انسان اپنے ہی سائے اور ماضی کے تعاقب سے خوفزدہ رہتا ہے۔
ہڈیوں کا ڈھانچ: یہ کہانی ایک قحط زدہ شہر اور انسانی لامتناہی بھوک کی علامت ہے، جو معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز مٹ جانے اور روحانی پستی کو ظاہر کرتی ہے۔
انتظار حسین نے ان کہانیوں میں داستانوی زبان، صوفیانہ روایات اور علامتی تیکنیک کا استعمال کر کے جدید انسان کی تنہائی اور زوال کو پیش کیا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.