یہ داستان معاشرے کی تلخ سچائیوں اور ایک معصوم لڑکی کی آپ بیتی پر مبنی ہے جس سے اس کا سچ چھین لیا گیا تھا。 کہانی کا آغاز پنڈت رام ساگر سے ہوتا ہے جو نہایت بھولے اور سادھے انسان تھے。 بستی والوں نے ان کی شادی سدھا سری نامی ایک لاوارث لڑکی سے کروا دی。 رام ساگر کی غربت کے باعث سدھا سری بستی کے دیگر لوگوں کے گھروں کا کام کاج کرتی اور بدلے میں اچھا کھانا اور لباس حاصل کرتی تھی، جس کی وجہ سے بستی کے اوباش نوجوانوں سے اس کے مراسم رہے。 اسی دوران سدھا سری کے ہاں ایک انتہائی خوبصورت بیٹی "گوندنی" پیدا ہوئی。 جب گوندنی ڈھائی سال کی ہوئی تو سدھا سری کی لاش ایک کھلیان سے ملی جہاں اسے کسی سانپ نے ڈس لیا تھا。 ماں کی موت کے بعد رام ساگر نے اکیلے محنت مزدوری کر کے گوندنی کی پرورش کی-
گوندنی جب جوان ہوئی تو وہ اپنی ماں کے برعکس پاکدامن، غیرت مند اور شہزادیوں جیسی تمکنت کی مالک تھی。 راجن پور کے ایک امیر زمیندار دھرم چند کا بیٹا پورن چند دماغی طور پر مفلوج (پاگل) تھا。 دھرم چند نے مکھیا جی کے ذریعے پورن چند کی شادی گوندنی سے طے کروا دی، لیکن رام ساگر کو لڑکے کے پاگل پن سے بے خبر رکھا گیا。 شادی کے بعد پورن چند گوندنی کو آسمان کی اپسرا اور دیوی سمجھ کر صرف اس کی پوجا کرتا رہا اور ان کے درمیان کبھی میاں بیوی کا رشتہ قائم نہ ہو سکا-
دھرم چند کی بیٹی چترا دیوی (جو خود سسرال سے اجڑی ہوئی تھی) بھائی کے علاج کے بہانے گوندنی اور پورن چند کو کانتی پور کے مندر لے گئی。 وہاں مندر کے پجاری سوامی جیون داس نے گوندنی کے بے مثال حسن پر فریفتہ ہو کر اسے جاپ کے نام پر بھنگ کا نشہ آور "امرت جل" پلایا اور بے ہوشی کی حالت میں اس کی عصمت دری کی。 گوندنی اس پاپ سے ناواقف رہی اور حمل ٹھہرنے پر جب وہ راجن پور واپس آئی، تو ساس نے حقیقت معلوم ہونے پر اسے شدید مارا پیٹا。 دھرم چند نے اپنی عزت بچانے کے لیے گوندنی کو خاموشی سے کار میں بٹھایا اور اس کی بستی کے قریب لاوارث چھوڑ دیا-
بستی واپس پہنچنے پر گوندنی کو معلوم ہوا کہ اس کے والد رام ساگر کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کے گھر پر لجیا چاچی اور اس کا آوارہ بیٹا سروپا قابض ہیں。 گوندنی نے وہیں رہائش اختیار کی اور ایک خوبصورت بچے "دیپک" کو جنم دیا، جس کی شکل سوامی جیون داس سے ملتی تھی-
جب لجیا نے بچے کے بارے میں پوچھا تو گوندنی نے صاف کہہ دیا کہ یہ پورن کا بچہ نہیں ہے- بچے کی پیدائش کے بعد گوندنی کا حسن مزید نکھر گیا。 کہانی کے اختتام پر، غربت سے مجبور ہو کر جب گوندنی نے اپنا مکان بیچنے کا ارادہ ظاہر کیا تو لجیا چاچی اپنے قبضے کے چھن جانے کے خوف سے اس کے خلاف سازشیں سوچنے لگی، جبکہ بستی کے اوباش نوجوان اور سروپا گوندنی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے لیے گھات لگائے بیٹھے ہیں اور گوندنی زندگی کی نئی صعوبتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.