یہ ناول عفت سحر کے قلم سے نکلی ایک ایسی تحریر ہے جو انسانی رشتوں کی نزاکت، محبت کی آزمائش اور سماجی تضادات کی عکاسی کرتی ہے۔ کہانی کا آغاز ایک ایسے موڑ سے ہوتا ہے جہاں مرکزی کردار اپنی زندگی کی تلخیوں اور حالات کے اندھیروں میں گھرا ہوا ہے۔ ناول میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ صبر اور سچی وابستگی کے ذریعے زندگی کے مشکل ترین دور کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح رات کے بعد سویرا لازمی ہے، اسی طرح غم اور پریشانیوں کے "دھندلکے" بھی ایک نہ ایک دن چھٹ جاتے ہیں اور امید کی نئی کرن نمودار ہوتی ہے۔ مصنفہ نے کردار نگاری اور مکالموں کے ذریعے انسانی نفسیات کے مختلف پہلوؤں کو نہایت عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.