ناول "تلاش" مصنف محمد عثمان علی کی لکھی ہوئی ایک پراسرار اور سنسنی خیز کہانی ہے۔ کہانی کی شروعات مصنف کے اپنے سفر سے ہوتی ہے، جہاں بس میں ان کی ملاقات ماہ نور نامی ایک پراسرار لڑکی سے ہوتی ہے۔ ماہ نور انہیں امریکہ کے ایک میوزیم سے ملا ہوا ایک میموری کارڈ دیتی ہے جس میں ایک شاعر (اسنل) کی آپ بیتی اور عجیب و غریب تحریر شامل ہوتی ہے۔ اس تحریر کے مطابق، اسنل نامی شاعر نے دنیا چھوڑ کر میوزیم میں روپوش ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ رات کی تاریکی میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس وسیع میوزیم میں انسانوں سے مشابہ کئی پر اسرار اور آسیب زدہ روپ یا مومی مجسمے موجود ہیں۔ اسی دوران اسے "ایلا" نامی ایک لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے جو سالوں سے وہاں قید ہوتی ہے۔ جب ایلا کو وہ پراسرار مخلوق ایک خوفناک انجام کی طرف لے جاتی ہے، تو اسنل واچ مین کی مدد سے اسے بچانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی ڈائری میں تمام بدلہ لینے اور حقیقت بے نقاب کرنے کی التجا چھوڑ جاتا ہے۔ مصنف اس میموری کارڈ کے مواد کو پڑھ کر اسے ایک بہترین خوفناک اور سسپنس سے بھرپور افسانوی کہانی کی شکل دیتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.