یہ ایک سنسنی خیز اور جذباتی کہانی ہے جس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، مصنوعی اعضاء، باپ بیٹے کے رشتے اور وطن کی محبت کو یکجا کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر حامد ایک کامیاب سائنس دان ہے جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے مصنوعی اعضاء بنانے کے شعبے میں ڈاکٹریٹ حاصل کر کے پندرہ سال بعد پاکستان واپس آیا ہے۔ وہ ملک کی ایک یونیورسٹی کے شعبہ سائنس میں پڑھاتا ہے اور اپنی نئی ایجادات پر کام کرنا چاہتا ہے۔ ایک دن اس کی نظر ہسپتال کے نرسوں کے کوارٹرز میں رہنے والی رضیہ پر پڑتی ہے۔ رضیہ ایک سینئر نرس ہے اور حامد کی پہلی بیوی رہ چکی ہے۔ ان کی شادی کے بعد ان کے ہاں ایک معذور بچہ پیدا ہوا تھا۔ حامد اس بچے کو بوجھ سمجھ کر اور اپنا وظیفہ ملنے کے بعد رضیہ کو طلاق دے کر بیرون ملک چلا گیا تھا۔ بچے کا نام آزر ہے، جو پیروں سے محروم ہے اور ماں کی محنت سے پلا بڑھا ہے۔ آزر ذہین، با اخلاق اور وطن سے محبت کرنے والا نوجوان ہے۔
حامد کو معلوم ہوتا ہے کہ آزر اس کا اپنا بیٹا ہے۔ اب وہ اپنی نئی ایجاد، مصنوعی پیر، کو آزمانے کے لیے اسی بیٹے کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ رضیہ اس کا شدید مخالفت کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے برسوں پہلے اپنے بیٹے کو چھوڑ دیا تھا، اب وہ اس کی زندگی میں مداخلت نہ کرے۔ مگر حامد اپنی مرضی کرتا ہے۔ وہ آزر کو مصنوعی پیر لگا دیتا ہے۔ ان پیروں میں ایسے پروگرام شامل ہیں جو آزر کے ذہنی اور اعصابی نظام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ آزر کا آئی کیو لیول بڑھ کر ایک سو پچاس ہو جاتا ہے اور وہ غیر معمولی ذہانت اور طاقت کا حامل بن جاتا ہے۔ حامد اسے ایک تجربہ گاہ کی چابی دے کر مزید اعضاء بنانے اور تحقیق کے لیے استعمال کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.