Pages

Tuesday, June 13, 2023

Teesri Manzil By Mael Malihabadi

مائل ملیح آبادی کا ناول "تیسری منزل" 1950ء کے دہائی کے درمیانی عرصے (تقریباً 1955ء) میں لکھا گیا ایک سچا سماجی اور معاشی ڈراما ہے۔ یہ کہانی ایک بدلتے ہوئے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے جہاں قدیم و فرسودہ خاندانی روایات، زوال پذیر اشرافیہ، اور جدید سرمائے کا اقتدار آپس میں نبرد آزما ہیں۔ معاشی بدحالی کے دور میں کس طرح انسانی جذبات کا استحصال کیا جاتا ہے، یہ اس کا مرکزی موضوع ہے۔
  داستانِ خلاصہ1. تین مکانات اور ان کا ماحول:
کہانی کا محوار ایک چھوٹی سی گلی میں آمنے سامنے واقع تین گھروں پر محیط ہے:   بابو کا گھر: ایک خوشحال، مغرور اور ظاہری طور پر مذہب پرست خاندان جو محکمہ سپلائی میں افسر (ضلع سپلائی افسر) ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا حبیب اور بیٹی بانو ہیں۔ بابو اپنے مکان پر ایک "تیسری منزل" تعمیر کرواتا ہے تاکہ اپنی سماجی اور معاشی برتری کا مظاہرہ کر سکے۔   سیدانی کا گھر: ایک غریب، شریف اور صبر کرنے والا یتیم خاندان۔ گھر کا واحد کفیل بیٹا اکرم ہے جو کاغذ کی مل (پیپر مل) میں ستر (70) روپے ماہوار پر مزدوری کرتا ہے۔ اس کی بہن حسینہ اور بوڑھی ماں (سیدانی) ہیں۔ حسینہ قناعت پسند اور جذباتی لڑکی ہے۔   شیام کا گھر: ایک محنتی بڑھئی (شیام) اور اس کی بیوی (کملا) کا گھر۔ شیام ایک انتہائی باظرف اور سچا انسان ہے جو سیدانی کے مرحوم شوہر کا بے حد احترام کرتا تھا اور غریبی میں ان کا خیر خواہ ہے۔   2. رشتہ داری اور فریب:
حبیب کے پاس سرکاری عہدہ (ڈپٹی کلکٹری) آنے کی توقع پر بابو اپنے فائدے کے لیے چالیں چلتا ہے۔ وہ سیدانی کو جھانسہ دیتا ہے کہ حبیب کا رشتہ حسینہ کے ساتھ طے کر دیا گیا ہے اور تیسری منزل اسی کے لیے بنوائی گئی ہے۔ غریب سیدانی اور حسینہ اس کو سچ مان کر خوش فہمی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ لیکن درحقیقت بابو ایک دولت مند اور بااثر شخص حاجی وزیر احمد کی بیٹی سے حبیب کا رشتہ طے کرنا چاہتا ہے۔   

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.