Pages

Tuesday, October 26, 2021

Aabru By Mael Malihabadi

مائل ملیح آبادی کا ناول "آبرو" 1943ء کے خوفناک اور الم ناک قحطِ بنگال کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک غریب اور کمسن دیہاتی لڑکی "بندو" ہے جو اپنے شدید بیمار اور لاچار باپ "سروپ کمار" کے ساتھ بھوک اور نفاستہ کے ایام گزار رہی ہے۔ گاؤں میں اناج کی شدید قلت ہے، اور ترلوک لالہ نیز کامتا پرشاد جیسے زکواۃ دہندگان اور ذخیرہ اندوز غریبوں کی مجبوری کا بے دردی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کامتا کی نظر بندو پر پڑتی ہے، جبکہ حالات سے تنگ آ کر سروپ کمار بندو کے ساتھ کلکتہ کی طرف ہجرت کا فیصلہ کرتا ہے۔ سفر کے دوران بیمار باپ دم توڑ دیتا ہے، اور مرتے وقت بندو کو غربت کے ساتھ ساتھ آبرو کی حفاظت کا سبق دے جاتا ہے۔
کلکتہ پہنچ کر بندو بالکل بے سہارا ہو جاتی ہے۔ اسٹیشن پر جسم فروشی کے دھندے سے جڑے افراد اور ایجنٹ اسے لالچ دے کر سونا گاچھی (جسم فروشی کے اڈے) پہنچا دیتے ہیں، لیکن بندو اپنی عزت و آبرو پر حرف نہیں آنے دیتی اور وہاں سے بھاگ نکلتی ہے۔ سڑک پر بھوک و پیاس سے نڈھال اور موت کے قریب پہنچ کر اس کی ملاقات "رحمت" نامی ایک غریب اور نیک دل مسلمان گھوڑا گاڑی بان سے ہوتی ہے۔ رحمت اسے اپنے ساتھ لاتا ہے، اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور بغیر کسی برے مقصد کے اسے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
دوسری طرف، تعصب اور تنگ نظری کا شکار مکان مالک "کالی بابو" اور اس کے لوگ ایک مسلمان کے گھر ہندو لڑکی کے قیام پر اعتراض کرتے ہیں اور شکوک و شبہات کی بنیاد پر رحمت کی گھوڑا گاڑی کو آگ لگا دیتے ہیں، جس سے رحمت شدید جھلس جاتا ہے اور اس کا روزگار بھی تباہ ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود، رحمت اور بندو ہمت نہیں ہارتے۔ ناول کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ قحط اور مصیبت کے انسانی المیے کے سامنے مذہب، ذات پات اور تعصب کی دیواریں بے معنی ہو جاتی ہیں، اور انسانیت و عفت (آبرو) کی حفاظت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.