Pages

Monday, January 18, 2021

Zulmat Kada By Sabir Ali Hashmi

ناول "ظلمت کدہ" (تحریر: ڈاکٹر صابر علی ہاشمی) ایک پرسپنس، تجسس اور خوف سے بھرپور مافوق الفطرت کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار رشید احمد ہے جو غریبی، بری صحبت اور لاڈ پیار کے باعث چور بن جاتا ہے۔ ایک رات وہ محلہ قاضی پورہ کی ایک امیر کوٹھی میں چوری کرتا ہے، لیکن نکلتے وقت چوکیدار اور لوگوں سے بچنے کی کوشش میں پاس ہی واقع ایک نہایت قدیم اور پراسرار دو منزلہ عمارت کی کھڑکی سے اندر کود جاتا ہے۔  اندر داخل ہوتے ہی رشید کو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک انتہائی خوفناک اور آسیب زدہ مکان میں پھنس چکا ہے۔ عمارت کے اندر اسے انگریزی دور کے کپڑے پہنا ہوا ایک پراسرار انسانی ڈھانچہ، ایک خونخوار سیاہ بلا جو انسان یا کسی جانور کا خون پی رہا ہوتا ہے، اور ایک ۲۰ فٹ لمبا خوفناک ناگ ملتا ہے۔ رات کے سناٹے میں ایک عورت کی خوفناک چیخیں اور ہولناک قہقہے گونجتے ہیں۔  جب رشید اوپر کی منزل کے کمروں کا جائزہ لیتا ہے تو اسے الماری سے گرم اور لذیذ کھانا ملتا ہے، مگر بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ سالن میں انسانی انگلی تھی اور وہ انسانی گوشت کھا رہا تھا۔ عمارت کے دیگر کمروں میں چھت سے لٹکی ہوئی مکھیاں کھائی گلتی سڑتی عورت کی لاش، اور اپنے کٹے ہوئے سر کو ہاتھ میں اٹھائے خون پینے والی سرکٹی چڑیل اس پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ رشید کی پستول کی گولیاں ان بدروحوں پر بے اثر ثابت ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.