یہ کہانی معاویہ نامی ایک عیاش، خود غرض اور مکار لڑکے کے گرد گھومتی ہے جو اپنی خوبصورت شکل و صورت اور چرب زبانی کے بل بوتے پر امیر لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنساتا ہے۔ وہ نہ صرف ان سے مالی فائدے حاصل کرتا ہے بلکہ لڑکیوں کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل بھی کرتا ہے۔ عقیل اس کا ہم جماعت اور دوست ہے جو اس کی ان تمام کرتوتوں سے واقف ہے۔ معاویہ اپنی موجودہ گرل فرینڈ شگفتہ کو دس لاکھ روپے کا جعلی چیک دیتا ہے اور بعد میں اسے اس کی نازیبا ویڈیوز دکھا کر تیس لاکھ روپے کے لیے بلیک میل کرتا ہے۔
اسی دوران یونیورسٹی میں شمامہ یوسف نامی ایک باحیا، برقع پوش لڑکی داخل ہوتی ہے۔ شمامہ ایک غریب اور مخلص لڑکی ہے، جس کے والد محمد یوسف سیٹھ عبدالکریم صالح کے ذاتی ڈرائیور ہیں۔ شمامہ کو سیٹھ کی اجازت سے یونیورسٹی آنے جانے کے لیے مرسڈیز گاڑی کی سہولت ملی ہوئی ہے۔ معاویہ اس گاڑی کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ شمامہ کسی بڑے سیٹھ کی اکلوتی امیر زادی ہے۔ وہ شمامہ کے سامنے 'سیرت سے محبت' کا ڈھونگ رچاتا ہے اور چرب زبانی سے اسے اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے۔ شمامہ معصومیت میں اسے سچا انسان سمجھ کر اپنے والد سے ملوانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ناول کے اختتام پر جب چھٹی کے وقت شمامہ، معاویہ کو اپنے والد محمد یوسف سے ملواتی ہے اور معاویہ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی امیر زادی نہیں بلکہ ایک ڈرائیور کی بیٹی ہے، تو اس کا سارا سحر ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ شدید غصے اور حقارت میں محمد یوسف اور شمامہ کی توہین کرتا ہوا وہاں سے چلا جاتا ہے، جس سے شمامہ پر اس کی سچائی آشکار ہو جاتی ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.