"آنکھیں" اردو اور پنجابی کی منفرد جدید لب و لہجے کی شاعرہ سارا شگفتہ کا شعری مجموعہ ہے۔ سارا شگفتہ کی شاعری روایتی موضوعات سے ہٹ کر انسانی وجود کے دکھوں، تنہائی، اور عورت کے نفسیاتی کرب کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی نظموں میں علامت نگاری اور استعاروں کا ایک ایسا جہان آباد ہے جہاں وہ موت، زندگی، اور معاشرتی جبر کو نہایت بے باکی سے بیان کرتی ہیں۔ یہ کتاب ان کی گہری حساسیت اور زندگی کے تلخ تجربات کا نچوڑ ہے، جس میں انہوں نے اپنی بیٹی "شیلی" کے نام منسوب نظموں کے ذریعے ممتا اور دکھ کے لرزہ خیز رشتوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ سارا کی شاعری میں ایک ایسی تڑپ اور احتجاج ہے جو پڑھنے والے کے دل پر گہرا نقش چھوڑتا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.