مجموعی کہانی ایک ایسے انسان کے گرد گھومتی ہے جو طمع، لالچ اور راتوں رات امیر بننے کے جنون میں اپنی عزتِ نفس، اصول اور وقت کی قربانی دیتا ہے۔ ایم اے راحت کا یہ ناول "اے بسا آرزو" انسان کے مادی مفادات، اخلاقی زوال اور خواہشات کے انجام پر مبنی ایک اثر انگیز داستانی تجزیہ فراہم کرتا ہے۔
ناول کا خلاصہ : کہانی کا آغاز اور تعارف: کہانی کی شروعات دو متضاد ذہنیت کے حامل دوستوں سے ہوتی ہے۔ ایک راوی (جو غریب، قناعت پسند اور سیدھا سادا ہے) اور دوسرا کمال شاہ (جو حد درجہ چالاک، مفاد پرست اور دولت حاصل کرنے کے جنون میں مبتلا ہے)۔ کمال شاہ کا ماننا ہے کہ دنیا میں سب کچھ صرف حاصل کرنا ہے اور آخرت کا کوئی وجود نہیں، جبکہ راوی کا عقیدہ ہے کہ انسان اپنے ہر عمل کا نتیجہ بھگتتا ہے۔ دولت کی تلاش اور غلط راستے:
لاہور سے کراچی منتقل ہونے کے بعد، کمال شاہ کی ملاقات امیر حیات اللہ سے ہوتی ہے جو ظاہر میں ایک نواب اور رئیس لگتا ہے لیکن اندر سے زوال پذیر اور اسمگلنگ کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہوتا ہے۔ کمال شاہ راتوں رات امیر بننے کے لیے حیات اللہ کا دستِ راست بن جاتا ہے اور بے عزتی و تذلیل کی پروا کیے بغیر اس کی باتوں پر عمل کرتا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.