یہ کہانی قیامِ پاکستان کے کچھ عرصہ بعد کے دور سے شروع ہوتی ہے اور ایک ایسی پراسرار اور روحانی خاتون "اللہ رکھی" کے گرد گھومتی ہے جس کا تعلق "نظامِ تکوینی" سے ہے ۔ کہانی کا راوی، جو خود ایک تعلیم یافتہ اور مادہ پرست نوجوان ہے، شروع میں روحانیت کا منکر ہوتا ہے لیکن اپنی ایک لاعلاج بیماری (بخار) سے شفا پانے کے بعد اللہ رکھی کی روحانی قوتوں کا قائل ہو جاتا ہے ۔ کتاب کا ایک بڑا حصہ "گھنشام" نامی ایک ہندو سنار کے گرد بنتا ہے، جسے سلیمان کھوسہ کے قتل کے جھوٹے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے ۔ اللہ رکھی اپنی روحانی بصیرت سے پہلے ہی پیشن گوئی کر دیتی ہے کہ گھنشام کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا، اور عین پھانسی کے وقت اصل قاتل (رحیم بخش کھوسہ) کے اعترافِ جرم کے باعث اس کی سزا ٹل جاتی ہے ۔ اس معجزے کے بعد گھنشام اور اس کی اہلیہ اسلام قبول کر لیتے ہیں ۔ کہانی میں "زمان و مکان" (Time and Space) کے فلسفے کو بھی چھیڑا گیا ہے، جہاں راوی اللہ رکھی کے آستانے پر ایک رات گزارتا ہے مگر باہر کی دنیا میں پانچ سال بیت چکے ہوتے ہیں ۔ مجموئی طور پر یہ کتاب عورت کی روحانی صلاحیتوں، وقت کی حقیقت اور تصوف کے اسرار کو اجاگر کرتی ہے ۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.