یہ کہانی بابو کالونی کے چار دوستوں—آیان، بالا، راجہ اور مشی—کی ہے، جو نچلے درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کے والدین ان کی سمتِ زندگی اور محنت سے ناامید رہتے ہیں۔ آیان کے والد، ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر توقیر احمد، اپنے بیٹے کی آوارہ گردی سے تنگ ہیں۔ ایک بھیگی رات کو والد کی شدید ڈانٹ اور گھر سے نکالے جانے کے بعد آیان کیفے فراق کے باہر پناہ لیتا ہے۔ وہاں بارش میں پھنسے ایک بزرگ شیخ کبیر اور ان کے اہل خانہ (جس میں ان کی بیٹی گہنا بھی شامل ہے) کی مدد کرتے ہوئے آیان ان کا بھاری صندوق ان کی منزل تک پہنچاتا ہے۔
بعد میں آیان کی زندگی میں نئی تبدیلی آتی ہے جب اسے ناہید نامی لڑکی کی اردو ٹیوشن ملتی ہے۔ دوسری طرف، علاقے میں شوکی اور سارنگا (رنگا) کا غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا راج ہوتا ہے۔ جب یہ غنڈے شیخ کبیر کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، تو آیان اور اس کے دوست ان سے بھڑ جاتے ہیں۔ اس لڑائی کی وجہ سے آیان اور اس کے دوستوں کے خلاف پولیس کیس بن جاتا ہے اور انہیں تھانے جانا پڑتا ہے۔ تاہم، اے ایس پی (جو آیان کے والد توقیر صاحب کا پرانا شاگرد نکلتا ہے) توقیر صاحب کی عزت و احترام کی خاطر لڑکوں پر کیس درج کیے بغیر ان کی کونسلنگ کرتا ہے اور قانونی کارروائی کی تباہ کاریوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.