"اے سخی ساجن" سمرہ بخاری کا تحریر کردہ ایک جذباتی اور احساس سے بھرپور اردو ناولٹ ہے۔ کہانی دریاۓ چناب کے ساحلی گاؤں اور شاہ گردیزی کی جاگیردارانہ حویلی کے گرد گھومتی ہے، جہاں خاندانی روایتوں، طبقاتی تفریق اور کڑی پابندیوں کا راج ہے۔ حویلی کی گھٹن زدہ فضا میں قید صغریٰ اور غریب ملازمہ صابی (صاحب بی بی) دونوں اپنے اپنے طور پر محبت کے ناممکن خواب دیکھتی ہیں۔ صغریٰ کیکروں کے جھنڈ میں مقیم ایک تارکِ دنیا فقیر (جو سابق پروفیسر تھا) کی خاموش ریاضت اور عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے اور حویلی کے سخت پہروں کے باوجود اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے، مگر فقیر اس کی محبت کو جاگیردارانہ عیاشی اور بے حیائی قرار دے کر ٹھکرا دیتا ہے۔ دوسری طرف صابی حویلی کے نوابزادے حاتم شاہ کی دلکشی کے سحر میں مبتلا ہو کر ایک نادیدہ روگ پال لیتی ہے، لیکن حاتم کا رشتہ کسی اور سے طے ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی عورت کی بے بسی، خاموش جذبات، معاشرتی پابندیوں اور ایک بے رحم طبقاتی نظام میں ٹوٹتے ہوئے خوابوں کا دکھ درد بھرے انداز میں احاطہ کرتی ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.