Pages

Thursday, June 27, 2019

Firdous e Iblees By Inayatullah

Download Link B
یہ ایک تاریخی ناول ہے جو حسن بن صباح، اس کے باطنی فرقے، قلعہ الموت اور اس کی بنائی ہوئی "مصنوعی جنت" کی پراسرار داستان بیان کرتا ہے۔ ناول کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ایک شخص نے مذہب کے نام پر لوگوں کو کیسے بہکایا، اپنے مفاد کے لیے ان کے ذہنوں پر قبضہ کیا اور اسلام کی تاریخ میں ایک ایسا فرقہ کھڑا کر دیا جس نے سازشوں، قتل اور خونریزی کو اپنا ہتھیار بنا لیا۔
کہانی کے آغاز میں ناول نگار حسن بن صباح کے مقصد، اس کے فرقے کے پس منظر اور اس کے خوفناک اثرات کا تعارف کراتا ہے۔ حسن بن صباح خود کو خدا کا نمائندہ اور بعض اوقات امام کے طور پر پیش کرتا ہے اور عوام کو یہ یقین دلاتا ہے کہ جنت پر اسی کا اختیار ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو اس کے احکام مانے گا، اسے جنت ملے گی اور جو انکار کرے گا وہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔ اسی دعوے کی بنیاد پر وہ ایک ایسا قلعہ تیار کرتا ہے جس کے اندر زمین پر ایک جنت بنائی جاتی ہے۔ اس میں خوبصورت باغ، پھل دار درخت، بہتی نہریں اور حسین و جمیل لڑکیاں رکھی جاتی ہیں۔
اس جنت میں لے جانے سے پہلے نوجوانوں کو حشیش پلا کر بے ہوش کیا جاتا ہے۔ جب ہوش آتا ہے تو وہ خود کو انتہائی حسین مناظر، حوروں جیسی لڑکیوں اور شراب و کباب کے درمیان پاتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ مر کر جنت میں پہنچ گئے ہیں۔ کچھ دنوں بعد انہیں دوبارہ حشیش دے کر قلعے سے باہر لایا جاتا ہے اور حسن بن صباح ان سے کہتا ہے کہ جنت اسی کی عطا ہے۔ وہ انہیں حکم دیتا ہے کہ دوبارہ اس جنت میں جانے کے لیے اس کے کہنے پر قتل و غارت کریں۔ یہ نوجوان اپنی جان کی پروا کیے بغیر اس کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں۔ یہی لوگ "فدائی" کہلاتے ہیں، اور حشیش کھانے کی وجہ سے "حشیشین" کہلائے جانے لگے۔
ناول میں حسن بن صباح کی زندگی کے مختلف مراحل بھی دکھائے گئے ہیں۔ تبریز اور دوسرے علاقوں میں اس کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے، سلجوقی سلطنت سے اس کا ٹکراؤ ہوتا ہے اور وہ مختلف قلعوں پر قبضے کے ذریعے طاقت حاصل کرتا ہے۔ سلجوقی سلطنت اور خاص طور پر ان کے وزیر اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتے ہیں، اس لیے وہ فدائیوں کے ذریعے ان کے خلاف قاتلانہ کارروائیاں کرواتا ہے۔ کہانی کے درمیان کئی اور کردار بھی سامنے آتے ہیں، جیسے شافعیہ، شمونہ اور مزمل، جو اس سازشی ماحول کا حصہ بنتے ہیں۔ شافعیہ کو جاسوسی کے لیے قلعے کی طرف بھیجا جاتا ہے، جہاں وہ ناصر یعنی عبید عربی نامی نوجوان سے ملتی ہے۔ قلعے کے سردار عبدالملک بن عطاش اور دوسرے ساتھی بھی ان واقعات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.