یہ ایک سنسنی خیز جاسوسی کہانی ہے جس کا آغاز مسٹر شہریار کی بیوی "حنا" کے پراسرار قتل سے ہوتا ہے۔ انسپکٹر جواد جب جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں تو صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوتی ہے؛ شہریار کے ہاتھ میں ریوالور موجود تھا اور وہ قتل کا اعتراف بھی کرتا ہے، لیکن ریوالور کی گولیاں پوری تھیں۔ تفتیش کے دوران کمرے کی کھڑکی سے ہوٹل "بلیو مون" کا ایک "کی رنگ" (Key Ring) ملتا ہے جو مسٹر قاسم نامی شخص کا ہوتا ہے۔شہریار نے انسپکٹر کو کہانی سنائی کہ حنا بدچلن تھی، لیکن جب انسپکٹر نے حنا کی سہیلی اور وکیل سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ حنا ایک وفادار بیوی تھی اور تمام جائیداد اسی کے نام تھی۔ اصل حقائق یہ نکلے کہ شہریار اپنی عیاشیوں کے لیے رقم چاہتا تھا جو حنا اسے نہیں دے رہی تھی۔ اس نے اپنے دوست قاسم کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا تاکہ قتل کا شک کسی تیسرے شخص پر جائے یا اسے محض ایک الجھا ہوا کیس بنا دیا جائے۔ تاہم، ریوالور پر حنا کے فنگر پرنٹس کا نہ ہونا اور جائیداد کے لالچ نے شہریار کا پول کھول دیا اور وہ اپنے انجام کو پہنچا۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.