یہ کہانی مروجہ سماجی روایات سے ہٹ کر ایک ایسی لڑکی "سروج" (جس کا اصل نام میمونہ صدف ہے) کے گرد گھومتی ہے جس کی شخصیت پراسرار اور غیر معمولی ہے ۔ سروج کی پیدائش ایک طوفانی رات میں ہوئی، جو اس کی والدہ عالیہ بانی کی ایک درویش سے مانگی گئی دعا کا ثمر تھی ۔ وہ اپنی وضع قطع اور عادات میں عام لڑکیوں سے بالکل مختلف ہے؛ وہ بناؤ سنگھار سے دور رہتی ہے اور اکثر خاموش اور اپنے آپ میں مگن رہتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی ماں اسے ایک "معمہ" سمجھتی ہیں ۔ کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب یونیورسٹی کا ایک مغرور لڑکا، اشعر، اسے نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن سروج کی شخصیت کے رعب اور پراسراریت کے سامنے وہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے ۔ دوسری طرف، عالیہ بانی اپنی بیٹی کی اس حالت کو کسی آسیب یا جادو کا اثر سمجھ کر ایک عامل بابا کے پاس جاتی ہیں، لیکن سروج کے ساتھ منسلک پراسرار واقعات (جیسے سیاہ سانپ کا ظہور اور روحانی تجربات) یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس کا معاملہ انسانی فہم سے بالا تر ہے ۔ یہ ناول روحانیت، ماں کی ممتا اور ایک ایسی لڑکی کی جدوجہد کی داستان ہے جو دنیا کے طے کردہ معیاروں پر پورا نہیں اترتی ۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.