"آخری بیان" دستگیر شہزاد کی ایک جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے جو انصاف، ضمیر، اور بیوروکریسی کے تلخ حقائق کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک ایماندار افسر یا راوی ہے، جس کا سامنا ایک مظلوم اور مفلوک الحال شخص سے ہوتا ہے۔ اس شخص کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، اس کے حالات اور اس کے آخری بیان نے راوی کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ کہانی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح ہمارا قانون اور سیاسی و انتظامی نظام غریب اور معصوم لوگوں کو انصاف دینے کے بجائے انہیں مزید دباؤ اور تکالیف میں مبتلا کر دیتا ہے، اور آخر میں انسان کے پاس صرف اس کا سچا ضمیر ہی باقی رہ جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.