Pages

Thursday, December 21, 2017

Heeray Ki Kaan By Ibne Safi

اس کہانی کا مرکزی کردار انور ہے جو ایک اخبار میں کرائم رپورٹر ہونے کے ساتھ ساتھ قسط وار جاسوسی ناول بھی لکھتا ہے۔ وہ ایک لاپروا، آزاد منش اور بیباک نوجوان ہے جو ماضی میں وکیل رہ چکا ہے۔ اس کی پڑوس اور دفتر کی ساتھی رشیدہ ہے، جو ایک ٹائپسٹ ہے۔ دونوں اکیلے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ نوک جھونک کے باوجود گہرے دوست ہیں۔
کہانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب انور کی سابقہ محبوبہ ساجدہ اس سے مدد مانگنے آتی ہے۔ ساجدہ بتاتی ہے کہ اس کا شوہر ارشاد علی (جو ایک مشہور سرمایہ دار ہے) اپنی یادداشت کھو بیٹھا ہے اور تین دن سے غائب ہے۔ وہ معاملے کو پولیس سے چھپانا چاہتی ہے تاکہ ارشاد کے کاروباری شرکاء کوئی دھوکہ دہی نہ کریں۔ انور اس کیس کی تفتیش شروع کرتا ہے اور ارشاد کے شراکت دار شاہد، نائٹ کلب کے مینیجر، اور ایک پراسرار لڑکی زبیدہ تک پہنچتا ہے، جو "سعید منزل" میں رہتی ہے اور خود کو ارشاد کی محبت اور رضوان صدیقی سے وابستہ بتاتی ہے۔ تفتیش کے دوران انور کو معلوم ہوتا ہے کہ ارشاد دکن میں ہیرے کی کان کا مالک ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔
کچھ ہی دیر میں اطلاع ملتی ہے کہ تار جام کے صنعتی علاقے میں ایک بنگلے میں ارشاد نے خودکشی کر لی ہے۔ انور، ساجدہ کے ساتھ جائے وقوعہ (دیپ نگر) پہنچتا ہے جہاں کوتوالی انچارج اور ہیرے کی کان کا ایک شراکت دار دھارا سنگھ موجود ہوتے ہیں۔ انور موقعِ واردات کا سائنسی اور منطقی معائنہ کرنے کے بعد ثابت کرتا ہے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے، کیونکہ گولیوں کے نشانات اور بارود کا دھبہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایک فائر لیٹ کر اور دوسرا کھڑے ہو کر کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.