Pages

Thursday, September 14, 2017

Woh Sahir Aankhain By Sadia Hameed Chaudhry

یہ کہانی ایمل زمان کے گرد گھومتی ہے، جو لاہور کی ایک امیر کاروباری شخصیت عبدالرحمن زمان کی اکلوتی وارث ہے۔ اس کی ماں عمیمہ ایک مادہ پرست اور سماجی رکھ رکھاؤ کو پسند کرنے والی خاتون ہیں، جو اپنے دیہاتی رشتہ داروں کو جاہل اور کم تر سمجھتی ہیں۔ ایک بار جب عبدالرحمن زمان اپنی بوڑھی ماں کی علالت کا سن کر اپنے آبائی گاؤں جانے کی تیاری کرتے ہیں، تو ایمل اپنی ماں کی مخالفت کے باوجود اپنے پاپا کے ساتھ جانے پر اصرار کرتی ہے کیونکہ وہ بچپن سے ہی اپنے دادا، دادی اور تائی اماں کی محبت کو ترسی ہوئی تھی۔ گاؤں پہنچ کر ایمل کا والہانہ استقبال ہوتا ہے اور وہ وہاں کے پڑھے لکھے ماحول اور حویلی کے مکینوں کے خلوص کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے، جو اس کی ماں کے بتائے ہوئے خیالات کے بالکل برعکس تھا۔  وہاں ایمل کی ملاقات اپنے تایا زاد بھائی حسنین احمد زمان سے ہوتی ہے، جو LUMS کا پڑھا لکھا، خوبرو لیکن انتہائی مغرور اور سرد مہر نوجوان ہے۔ حسنین کے دل میں ایمل کی ماں عمیمہ کے خلاف شدید نفرت اور غصہ چھپا ہوتا ہے، کیونکہ ماضی میں عمیمہ نے حسنین کو اور اس کے خاندان کو شدید ذلیل کیا تھا، جس کا بدلا وہ اب نادانستہ طور پر ایمل سے بے رخی اختیار کر کے لے رہا ہوتا ہے۔ ایمل کو حسنین کی بھوری آنکھوں اور گندمی رنگت میں ایک مقناطیسی کشش محسوس ہوتی ہے اور وہ اس کے عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ ایک پکنک کے دوران ایمل نہر میں گر جاتی ہے اور حسنین اپنی جان کی پروا کیے بغیر اسے ڈوبنے سے بچا لیتا ہے، جس سے ایمل کا پیار مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ تاہم، حسنین اپنی انا اور ماضی کی تلخی کی وجہ سے ایمل کو نظر انداز کرتا رہتا ہے اور زبیدہ نامی لڑکی سے اچانک نکاح کر کے امریکہ منتقل ہو جاتا ہے، جس سے ایمل کا دل بری طرح ٹوٹ جاتا ہے۔  

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.