Download Link B
یہ انتظار حسین کا ایک شاہکار علامتی اور فلسفیانہ افسانہ ہے جس کا مرکزی کردار "الیاسف" ہے۔ یہ کہانی ایک ایسی بستی کی ہے جس کے لوگوں کو سبت (ہفتے) کے دن مچھلیوں کا شکار کرنے سے منع کیا گیا تھا، لیکن انسانی ہوس اور نافرمانی کی وجہ سے وہ لوگ مکر و فریب سے شکار کرنے لگے۔ بستی میں ایک نیک شخص انہیں اس گناہ سے روکتا تھا، مگر جب لوگوں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ بستی چھوڑ کر چلا گیا۔ خدا کے حکم کی نافرمانی کے نتیجے میں بستی کے لوگوں پر عذاب نازل ہوا اور وہ ایک ایک کر کے بندر بننے لگے۔ انسانوں کا چہرہ مسخ ہونا، غصہ، خوف اور نفرت ان کی انسانی کایا کو بندر کی شکل میں تبدیل کرتا چلا گیا۔ الیاسف اس بستی کا "آخری آدمی" تھا جو بندر بننے سے بچ گیا تھا۔ وہ خود کو آدمیت کا جزیرہ سمجھتا تھا اور اس نے عہد کیا تھا کہ وہ انسان کی جون (شکل) میں پیدا ہوا ہے اور انسان ہی مرے گا۔ بستی کو بندروں سے بھرا دیکھ کر وہ وحشت کے مارے جنگل کی طرف نکل گیا۔ اس تنہائی میں الیاسف کو شدید اندرونی اور بیرونی خوف کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اسے اپنے ہی اعضاء بدلتے ہوئے محسوس ہوئے اور وسوسوں نے گھیرا، تو اس نے جانا کہ انسان بنے رہنے کے لیے انسانوں کے درمیان رہنا ضروری ہے اور جو جس گروہ سے تعلق رکھتا ہے، اسی کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔ آخر میں اپنی محبت "بنت الاخضر" کی یاد اور تنہائی کے کرب کے ساتھ، جزیرے میں سمندر کا پانی امنڈنے لگا اور آخری آدمی بھی تبدیل ہونے کے خوف اور درد سے پکار اٹھا۔ یہ افسانہ انسانی اخلاقیات کے زوال اور تنہائی کے المیے کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.