Pages

Wednesday, October 19, 2016

Takhta e Dar Ke Saye Talay By Javed Hashmi

”تختہ دار کے سائے تلے“ جاوید ہاشمی کی جیل کے ایام (خصوصاً کوٹ لکھپت اور اڈیالہ جیل) میں لکھی گئی ایک آپ بیتی اور خطوط پر مشتمل تصنیف ہے۔
 یہ کتاب مصنف کی تنہائی، قید و بند کی صعوبتوں اور موت کے خوفناک سائے میں گزارے گئے شب و روز کی عکاسی کرتی ہے۔ 
 کتاب کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:جیل کے معمولات اور ماحول: جاوید ہاشمی نے کوٹ لکھپت جیل کے سیکورٹی وارڈ اور ڈیتھ سیل کے قریب کی فضا، تلاشی، "سب اچھا ہے" کے جعلی نعروں اور جیل انتظامیہ کے ظالمانہ و نوآبادیاتی نظام کو تفصیل سے بے نقاب کیا ہے۔  
ویرانے کو چمن میں بدلنا: انہوں نے جیل کی بنجر زمین کو گلشن میں تبدیل کرنے کا احوال بیان کیا، جو اس بات کا استعارہ ہے کہ محنت اور امید کے ذریعے کسی بھی خوفزدہ اور بنجر ماحول کو زندگی کی خوشبو سے معطر کیا جا سکتا ہے۔
 عوامی طبقات کے نام خطوط: کتاب میں گاؤں کے محنت کشوں، مظلوموں، غریبوں اور معاشرتی ناانصافیوں کا شکار طبقے کے نام خطوط شامل ہیں، جن کے ذریعے مصنف نے جاگیردارانہ نظام، فوجی آمریت، محرومی اور غریبوں کے حقوق کی پامالی پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔  سیاسی و فکری پیغام: یہ تحریریں دراصل آمریت اور جبر کے خلاف جمہوریت، پارلیمنٹ کی بالا دستی، اور عوامی حقوق کی بحالی کے لیے ایک سیاسی اور اخلاقی بیانیہ پیش کرتی ہیں۔  

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.