Pages

Saturday, September 17, 2016

Woh Aik Raat By Ammarah Khan

Download Link A
Download Link B
"وہ ایک رات" عمارہ خان کا تحریر کردہ ایک نہایت دلچسپ، سنسنی خیز اور آخر میں مزاحیہ رخ اختیار کر جانے والا مختصر افسانہ ہے۔ کہانی کی شروعات موسم سرما کی ایک سرد اور ویران رات سے ہوتی ہے، جب رات کے تقریباً گیارہ بجے اچانک راوی (مرکزی کردار) کی امی کی طبعیت خراب ہو جاتی ہے اور انہیں سانس کا دورہ پڑتا ہے۔ گھر میں انہیلر تو مل جاتا ہے جس سے ان کی سانس ہموار ہو جاتی ہے، مگر کھانسی کی دوا ختم ہونے کی وجہ سے راوی مجبوراً سخت سردی اور دھند میں بائیک لے کر قریبی میڈیکل اسٹور کی طرف نکلتا ہے۔  دوا اور صبح کے ناشتے کا سامان خریدنے کے بعد جب وہ واپس آنے لگتا ہے، تو اسے سڑک پر ایک اکیلی لڑکی نظر آتی ہے۔ پتا کرنے پر وہ لڑکی بتاتی ہے کہ وہ انجکشن لینے آئی تھی مگر سارے پیسے ختم ہونے کی وجہ سے اب اس کے پاس واپسی کا کرایہ نہیں ہے۔ راوی ہمدردی کے تحت اسے اپنی بائیک پر بٹھا کر اس کی بتائی ہوئی جگہ یعنی "قبرستان" کی طرف لے جاتا ہے۔ راستے میں لڑکی کی خوشبو اور اس کا کندھے پر ہاتھ رکھنا راوی کے حواس پر سحر طاری کر دیتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ قبرستان کے گیٹ پر پہنچتے ہیں، لڑکی مسکرا کر کہتی ہے کہ وہ یہیں رہتی ہے اور خود کو چڑیل ظاہر کرتی ہے۔ راوی جب اس کے پیروں سے آنے والی "چھم چھم" کی آواز سنتا ہے تو خوف کے مارے اس کا دل حلق میں آ جاتا ہے اور وہ لڑکی قبرستان کے اندر چلی جاتی ہے۔  خوفزدہ راوی جب تیز رفتاری سے بائیک بھگاتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ وہ آواز (چھم چھم) مسلسل اس کا پیچھا کر رہی ہے۔ وہ گھبراہٹ میں قرآنی آیتیں پڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی جان بچانے کے لیے دیوانہ وار بائیک گھر کے صحن میں لا کھڑی کرتا ہے۔ وہاں جب اس کی امی پریشانی میں دروازہ کھولتی ہیں، تو راوی کی نظر اچانک اپنی بائیک کے پچھلے پہیے پر پڑتی ہے، جہاں بکرے کے گلے میں پہنانے والی "چھن چھن مالا" ایک شاپر کے ساتھ اڑی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے پہیہ گھومنے پر وہ آواز آ رہی تھی۔ یوں کہانی کے آخر میں مصنفہ "بقرہ عید مبارک" لکھ کر اس سارے خوف کو ایک مزاحیہ موڑ پر ختم کرتی ہیں۔  

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.