یہ کہانی 1492ء کے تاریخی اور طوفانی پس منظر میں کولمبس کے بحری سفر اور اندلس کے مسلمان مہاجرین کی دردناک داستان کو یکجا کرتی ہے۔ ایک طرف کرسٹوفر کولمبس نئے بحری راستے کی تلاش میں شدید سمندری طوفان، عملے کے خوف اور کپتان الونسو اور پیراڈو کی بغاوت کا سامنا کرتا ہے۔ جوزف نامی ایک بہادر نوجوان قیدی کولمبس پر پیراڈو کے قاتلانہ حملے کو ناکام بنا کر اس کی جان بچاتا ہے، جس پر کولمبس اسے اپنا خاص محافظ بنا لیتا ہے۔ کولمبس الونسو اور دیگر ملاحوں کو گمراہ کرنے کے لیے فاصلہ پیما آلے (مزین قطب نما) میں چالاکی سے تبدیلی کرتا ہے تاکہ وہ سفر منسوخ کر کے واپس نہ لوٹیں، جبکہ وہ خود اس خوش فہمی میں ہے کہ وہ جلد ہندوستان پہنچ کر بے پناہ دولت اور سونے پر قبضہ کر لے گا۔
دوسری طرف، سقوطِ غرناطہ کے بعد مراکش کے ساحل پر قائم مہاجر کیمپ میں شہید سپہ سالار موسیٰ بن ابی غسان کا خاندان (ان کی بیوی سارہ، بہو میمونہ، اور پوتا عدنان) کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ موسیٰ بن ابی غسان وہ عظیم مجاہد تھا جس نے غرناطہ کے زوال کے وقت تنِ تنہا فرڈینینڈ کی چھ لاکھ فوج کا مقابلہ کر کے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ کیمپ میں غرناطہ کے آخری بزدل حکمران ابو عبداللہ کا نو عمر شہزادہ محمد پہنچتا ہے۔ وہ انتہائی نادم ہو کر بتاتا ہے کہ اس کا باپ فاس (مراکش) میں بسترِ مرگ پر ہے اور مرنے سے پہلے ان سے معافی کا خواستگار ہے۔ شہزادہ محمد ایک اہم اور چونکا دینے والا انکشاف کرتا ہے کہ عدنان کا قیدی باپ (یوسف بن موسیٰ) فرڈینینڈ کے حوالے نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ غرناطہ کی جیل میں عیسائی قیدیوں کے ساتھ قید رہا تھا، جس سے خاندان میں یوسف کی بقا کی ایک موہوم سی امید جاگ اٹھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.