ناول اسیرِ ہوس از عاصم ناصر انسانی خواہشات، نفسیاتی کشمکش اور معاشرتی تضادات پر مبنی ہے۔ کہانی میں کردار اپنی خواہشات کے اسیر ہو کر زندگی کے فیصلے کرتے ہیں، جو انہیں انجام کی طرف لے جاتے ہیں۔ مصنف نے معاشرتی رویوں اور انسانی کمزوریوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا ہے، جس سے قاری کو سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.